انڈے کی زردی کھانے سے دل کے دورے کا خطرہ

دنیا بھر میں انڈوں کو صحتمند غذا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تاہم، اِن کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
کیا مرغی کے انڈے کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے؟ ایک دن میں کتنے انڈے کھائے جا سکتے ہیں؟ دیسی مرغی کے انڈے بہتر ہیں یا برائلر مرغی کے؟ کیا کچے انڈے کھائے جا سکتے ہیں؟
ایسے کئی سوالات ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان سوالات کے بارے میں ماہرِ غذائیت کیا کہتے ہیں۔
انڈوں میں کون سے غذائی اجزا ہوتے ہیں؟
ماہرِ غذائیات ڈاکٹر ارون کمار بتاتے ہیں کہ ایک انڈے میں اوسطاً 60 کیلوریز ہوتی ہیں اور اس میں چھ گرام اعلیٰ معیار کا پروٹین ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’انڈوں میں موجود پروٹین کو اعلیٰ معیار کا اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔‘
اسی وجہ سے دیگر غذاؤں میں موجود پروٹین کے فوائد کا جائزہ لیتے وقت انڈے کے پروٹین کو معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اسے انڈے کے پروٹین کو ’گولڈ سٹینڈرڈ‘ سمجھا جاتا ہے۔
کیا انڈے کی زردی جسم کے لیے نقصان دہ ہے؟
لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ صرف انڈے کی سفیدی ہی جسم کے لیے اچھی ہوتی ہے، لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ سفیدی اور زردی دونوں میں پروٹین موجود ہوتا ہے، صرف سفیدی میں ہی پروٹین نہیں ہوتا۔
زردی میں کولین ہوتا ہے، جو دماغی اور اعصابی نظام کے لیے ایک اہم غذائی جز ہے۔ حاملہ خواتین اور رحم میں موجود بچے کے لیے یہ ایک بہت اہم غذائی جزو ہے۔
اس میں لیوٹین اور زیکسینتھین جیسے غذائی اجزا بھی ہوتے ہیں، جو اعصابی نظام اور آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ، انڈوں میں وٹامن ڈی جیسے غذائی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔
نیشنل سینٹر فار بائیوٹیکنالوجی انفارمیشن (این سی بی آئی) کی ایک تحقیق اس کی تصدیق کرتی ہے، جس کے مطابق مرغی کے انڈے کولین، فولیٹ، وٹامن ڈی، آئیوڈین، بی وٹامنز اور اعلیٰ معیار کے پروٹین کا ذریعہ ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ صحت سے متعلق قومی ادارے اس وقت انڈوں کو زیادہ کولیسٹرول اور دل سے متعلق بیماریوں کے خطرے کا سبب نہیں سمجھتے۔
ایک دن میں کتنے انڈے کھا سکتے ہیں؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، چھ ماہ کی عمر سے بچوں کی غذا میں انڈے شامل کیے جا سکتے ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے: ایک سے دو انڈے
حاملہ خواتین کے لیے: دو انڈوں تک
بزرگوں کے لیے: کولین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے دو انڈے
ایسے افراد جو زیادہ ورزش کرتے ہیں اور جنھیں اضافی پروٹین درکار ہوتا ہے: روزانہ تین سے چار انڈے کھا سکتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ آسانی سے روزانہ ایک سے دو انڈے کھا سکتے ہیں۔ یہاں دو انڈوں سے مراد زردی سمیت مکمل انڈے ہیں۔
کیا انڈے کی زردی کھانے سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے؟
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انڈے کی زردی میں کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے، جو خون کی نالیوں میں جمع ہو کر دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن ڈاکٹر ارون کمار کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو سمجھنا ضروری ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’یہ درست ہے کہ ایک انڈے کی زردی میں تقریباً 200 ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے، لیکن غذا سے حاصل ہونے والے کولیسٹرول اور خون میں موجود کولیسٹرول کے تعلق کو سمجھنا اہم ہے۔‘
’یہ ایک غلط تصور ہے کہ خون میں موجود تمام کولیسٹرول صرف خوراک سے آتا ہے۔ ان کے مطابق، روزانہ کولیسٹرول کی تجویز کردہ مقدار دو ہزار ملی گرام ہے، جو تقریباً 10 انڈوں میں پائی جانے والی مقدار کے برابر ہے۔‘
جسم خود بھی جگر میں کولیسٹرول بناتا ہے۔
ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں: ’جب کوئی شخص روزانہ دو انڈے کھاتا ہے اور ان سے 400 ملی گرام کولیسٹرول حاصل کرتا ہے تو جگر کی طرف سے کولیسٹرول بنانے کی مقدار دو ہزار ملی گرام سے کم ہو جاتی ہے۔‘
کولیسٹرول صرف انڈوں میں ہی نہیں بلکہ دودھ سے بنی مصنوعات اور گوشت والی غذاؤں میں بھی ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’اگرچہ خون میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی زیادہ مقدار کو دل کے دورے کا سبب سمجھا جاتا ہے، لیکن اس تعلق کے بارے میں بحث اب بھی جاری ہے۔‘
ان کے مطابق، اگرچہ اس میں کسی حد تک حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن انڈوں سے حاصل ہونے والا غذائی کولیسٹرول خون میں کولیسٹرول کو اس حد تک نہیں بڑھاتا۔
اسی وجہ سے انڈے کی زردی نہ کھانے سے متعلق پرانی ہدایات میں اب نرمی آ گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ دل کی بیماری میں مبتلا افراد سمیت ہر شخص اعتدال کے ساتھ روزانہ ایک سے دو انڈے کھا سکتا ہے۔
مختلف تحقیقات میں پایا گیا ہے کہ غذا میں موجود چربی کا خون میں کولیسٹرول کی سطح اور ایتھیروسکلروسس کے خطرے پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔
ڈاکٹر ارون کمار کہتے ہیں: صرف فیملیئل ہائپرکولیسٹرولیمیا میں مبتلا افراد کے خون میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
یہ ایک نہایت نایاب کیفیت ہے، جس میں جسم کی کولیسٹرول کو قدرتی طور پر پراسیس کرنے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے ایسے افراد کے لیے طبی مشورہ لینا اور زردی سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
ان لوگوں کے علاوہ باقی ہر شخص بلا جھجھک زردی کھا سکتا ہے۔
اسی طرح، وہ بتاتے ہیں کہ انڈے کی زردی کھانے سے یرقان یا گردوں کی بیماری ہونے کا تصور بھی بے بنیاد ہے۔
امریکہ کے نیشنل سینٹر فار بایوٹیکنالوجی انفارمیشن (این سی بی آئی) نے بھی اس بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔
جنوری 2026 میں این سی بی آئی کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق: چونکہ انڈے غذائی کولیسٹرول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے طویل عرصے سے یہ سفارش کی جاتی رہی ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے سے بچانے کے لیے انڈوں کی کھپت کم کی جائے۔
تاہم، مختلف مطالعات میں یہ پایا گیا ہے کہ غذا میں موجود چربی کا خون میں کولیسٹرول کی سطح اور ایتھیروسکلروسس کے خطرے پر بہت کم اثر پڑتا ہے۔
ایتھیروسکلروسس ایسی حالت ہے جس میں شریانوں میں چربی جمع ہونے کے باعث وہ تنگ ہونے لگتی ہیں۔







