بین الاقوامیصحت

انگلینڈ میں ہر سال ضائع ہونے والی ادویات 75 سوئمنگ پولز بھر سکتی ہیں، فارمیسی ایسوسی ایشن

انگلینڈ میں ایک سال میں ضائع ہونے والی ادویات 75 سوئمنگ پولز بھر سکتی ہیں، نیشنل فارمیسی ایسوسی ایشن کے مطابق انگلینڈ میں 25-2024 کے دوران تقریباً 3,400 ٹن جزوی طور پر استعمال شدہ ادویات ضائع کی گئیں۔

ایسوسی ایشن نے مقامی صحت کے اداروں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے اندازہ لگایا ہے کہ ضائع ہونے والی ادویات کی وجہ سے این ایچ ایس کو ہر سال کم از کم 480 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوتا ہے۔

نیشنل فارمیسی ایسوسی ایشن کے چیئرمین اولیویئر پیکارڈ نے کہا ہے کہ ضائع ہونے والی ادویات ہر سال این ایچ ایس کے لیے بہت بڑی مالی لاگت کا باعث بنتی ہیں، جبکہ یہ رقم مریضوں کی بہتر خدمات کی فراہمی پر خرچ کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کا ضائع ہونا صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق نقصانات بھی ہو سکتے ہیں اور اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی دوا فارمیسی سے باہر نکلتی ہے تو چاہے اسے استعمال نہ کیا گیا ہو اور پیکنگ بھی نہ کھولی گئی ہو اسے دوبارہ کسی دوسرے مریض کو نہیں دیا جا سکتا اور اسے ضائع کرنا پڑتا ہے۔

ایسوی ایشن، جو برطانیہ میں 6,000 فارمیسیز کی نمائندگی کرتی ہے، نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے مریض جو کئی مستقل یا بار بار ملنے والے نسخے استعمال کرتے ہیں، ان کی ادویات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تاکہ ایسی دوائیں جن کی اب ضرورت نہیں رہی ان کی نشاندہی کی جا سکے۔

ایسوسی ایشن نے عوام سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ ادویات ضرورت سے زیادہ آرڈر نہ کریں اور ریپیٹ نسخہ صرف اسی وقت منگوائیں جب واقعی دوا کی ضرورت ہو۔

این ایچ ایس کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کئی مقامی سروسز ادویات کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے آگاہی مہم چلا رہی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button