پاکستان

بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار

بلوچستان کے اضلاع قلات اور مستونگ کے درمیان سفر کرنے والے 20 پولیس اہلکاروں کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔ ایک الگ واقعے میں ضلع قلعہ عبداللہ میں پولیس کی ایک خالی چوکی بھی مسمار کر دی گئی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق مغوی پولیس اہلکار قلات سے نوشکی جا رہے تھے کہ راستے میں انھیں اغوا کر لیا گیا۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مغوی اہلکاروں کا تعلق رخشان ڈویژن کے چار اضلاع واشک، چاغی، خاران اور نوشکی سے ہے۔ یہ اہلکار قلات پولیس ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے تھے۔

اہلکار کے مطابق پولیس اہلکار چھٹی پر ایک نجی وین میں قلات سے نوشکی جا رہے تھے۔ انھوں نے سربند کا راستہ اختیار کیا تھا، جو دونوں اضلاع کے درمیان مختصر راستہ ہے۔

سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں کو ضلع قلات کے کسی مقام سے اغوا کرنے کے بعد ضلع مستونگ کی حدود میں منتقل کیا اور پھر انھیں نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

ان کے مطابق مسلح افراد نے کچھ فاصلے پر گاڑی کے ڈرائیور اور دو سے تین دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا، تاہم پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سرکاری اہلکاروں کے اغوا کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے کمشنر قلات ڈویژن اسداللہ کاکڑ اور ان کے ڈرائیور کو اغوا کر لیا تھا۔ تاحال دونوں کی بازیابی نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر خاران اور اس کے بعد ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کو بھی اغوا کیا گیا تھا، تاہم بعد میں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

دوسری جانب ضلع قلعہ عبداللہ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس کی ایک خالی چوکی مسمار کر دی ہے۔

کوئٹہ میں محکمہ پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واقعہ ضلع کے علاقے پنکئی میں پیش آیا۔

انھوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مسلح افراد کے خلاف کارروائی شروع کی، جس کے بعد وہ پنجپائی کی جانب فرار ہو گئے۔

جواب دیں

Back to top button