بین الاقوامی

لداخ کے 28 مقامات کو نئے نام دینے پر چین کا اعتراض: ’انڈیا کا یہ اقدام غیر قانونی اور ناقابل قبول ہے‘

چین نے ایک بار پھر لداخ سے متعلق انڈیا کے اقدامات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کی جانب سے 2019 میں قائم کیے گئے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے لداخ کو تسلیم نہیں کرتا۔

بیجنگ میں منگل کو پریس بریفنگ کے دوران چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے انڈیا کے اس حالیہ فیصلے پر بھی تنقید کی، جس کے تحت لداخ میں 28 مقامات اور جغرافیائی خطوں کو باضابطہ نام دیے گئے ہیں۔

ماؤ نینگ یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دے رہی تھیں جس میں انڈیا کی وزارت داخلہ کی جانب سے ان مقامات کو سرکاری نقشوں میں شامل کرنے کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ ان میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو متنازع ہیں یا چین کے مؤثر کنٹرول میں ہیں۔

چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا کا یہ اقدام ’غیر قانونی اور ناقابل قبول‘ ہے اور اس سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق چین اور انڈیا کی سرحد کے مغربی حصے میں واقع متعلقہ علاقے ہمیشہ سے چین کا حصہ رہے ہیں۔

انڈیا کی وزارت داخلہ نے دو اکتوبر کو جن مقامات کے نام سرکاری طور پر درج کیے، ان میں گوگرا اور ہاٹ سپرنگز کے علاقے بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں مقامات 2020 میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی تصادم کے اہم مراکز رہے تھے۔

ایکچول لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب واقع یہ علاقے انڈین فوج کی گشت اور عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق دیگر مقامات میں چاپ چھینگل درہ، کنشکا چوٹی، پرپیک گلیشیئر، کرون پیر پہاڑ، علیشا گیری، شیکمیریک درہ، شکورگا وادی، زورآور چوٹی اور درا کارپو سمیت متعدد جغرافیائی مقامات شامل ہیں۔

چین کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا نے کہا ہے کہ ’چین چاہے جتنا بھی انکار کرے، اس سے یہ مسلمہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ لداخ انڈیا کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔‘

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے لداخ کے جن 28 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، انھیں سروے آف انڈیا کے سرکاری نقشوں میں معیاری ناموں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل لداخ انتظامیہ اور مقامی فریقوں سے مشاورت کے بعد مکمل کیا گیا، جبکہ اس کا مقصد مقامات کی درست شناخت کو آسان بنانا اور عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔

انڈیا نے اروناچل پردیش اور لداخ کے مقامات کو باضابطہ نام دینے کا سلسلہ چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے پہاڑوں، دریاؤں، قصبوں اور دیگر جغرافیائی خطوں کو چینی نام دیے جانے کے بعد شروع کیا تھا۔

چین اروناچل پردیش کو ’جنوبی تبت‘ یا ’زنگنان‘ قرار دیتا ہے، جبکہ انڈیا اسے اپنی ریاست کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔

پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے آئین کی دفعہ 370 ختم کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد سابق ریاست کو دو حصوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر کے دونوں کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے قرار دیا گیا تھا۔

لداخ کو الگ مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے پر چین نے اسی وقت شدید اعتراض کیا تھا۔

چھ اگست 2019 کو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون ینگ نے کہا تھا کہ ’چین انڈیا۔چین سرحد کے مغربی سیکٹر میں چینی علاقے کو انڈیا کے انتظامی دائرہ اختیار میں شامل کیے جانے کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے اپنے داخلی قوانین میں یکطرفہ تبدیلی کر کے چین کی علاقائی خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایسا اقدام ناقابل قبول ہے اور اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘

مئی 2020 میں لداخ کے مختلف سرحدی علاقوں میں انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں ہونے والی خونریز جھڑپ میں 20 انڈین اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار رہے، اگرچہ حالات معمول پر لانے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے 25 دور ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان پرانا سرحدی تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔

چین کے سینیئر صحافی شین شی ویئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’چین کی وزارت خارجہ یہ کیوں کہتی ہے کہ وہ یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر قائم کیے گئے ’مرکز کے زیرِ انتظام لداخ‘ کو تسلیم نہیں کرتی؟ اس لیے کہ انڈیا نے یکطرفہ اور غیر قانونی طریقے سے چینی علاقے کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ہے۔‘

تاہم انڈیا مسلسل اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے اور لداخ کو اپنی خودمختار سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button