امریکی ووٹر مہنگائی پر ناراض تھے، ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی کی وجہ کیا بنی؟

انتہائی پُرامید ڈیموکریٹس نے بھی شاید ایسی ڈرامائی کامیابی کی توقع نہیں کی تھی۔ انھوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کی جانب پیش رفت ایسے علاقوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر کے کی ہے جنھیں طویل عرصے سے ریپبلکنز کے قابلِ اعتماد سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
سینیٹ کا کنٹرول کس کے پاس جائے گا، یہ جاننے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس کی کامیابی کا حجم اس قدر بڑا رہا کہ امریکہ میں نصف شب سے پہلے ہی ان کی فتح کی پیش گوئی کی جانے لگی۔
ڈیموکریٹس کے لیے آئیوا یا اوہائیو میں کامیابی ہی غیر معمولی سمجھی جاتی۔ شاید ٹیکساس یا کینساس میں فتح بھی۔ لیکن ان چاروں ریاستوں میں کامیابی حیران کن ہے۔
یہ سب کیوں ہوا، اس میں کوئی راز نہیں۔ امریکہ بھر کے ووٹر مہنگی زندگی کے اخراجات پر ناراض ہیں اور اس کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اور تجارتی محصولات کی پالیسیوں نے قیمتوں میں اضافے کو ہوا دی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’میرا نام بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘
انھوں نے کئی ہفتوں تک اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ ایسے ووٹ دیں جیسے وہ خود انتخاب لڑ رہے ہوں۔ ایسے وقت میں جب ان کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح پر تھی، خود کو ریپبلکن انتخابی مہم کا مرکز بنانا ہمیشہ ایک خطرناک حکمتِ عملی تھی، اور اب ایسا لگتا ہے کہ یہ الٹا اثر دکھا گئی ہے۔
اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ’مسٹر ویٹو‘ بن جائیں گے۔ وہ اپنے صدارتی ویٹو کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول کانگریس سے منظور ہونے والے کسی بھی بل کو قانون بننے سے روک سکتے ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس بھی اب ان کی مطلوبہ قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ وہ کانگریس کے ذریعے ٹرمپ کے بعض متنازع فیصلوں اور ان طریقوں کی تحقیقات بھی شروع کر سکتے ہیں جن کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد وہ اور ان کا خاندان مالی فائدہ حاصل کرتے رہے ہیں۔







