بین الاقوامی

مڈ ٹرم الیکشن سے قبل ایران جنگ کے خاتمے میں ناکامی پر ٹرمپ کو قربانی کے بکرے کی تلاش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے میں ناکامی کا ملبہ ڈالنے کے لیے مبینہ طور پر قربانی کا بکرا تلاش کر رہے ہیں۔

امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف ایک نیا امریکی فوجی آپریشن کل ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جلد شروع ہو سکتا ہے۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیوں اور امریکی حکام کے بیانات کے تناظر میں اس امکان پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

رپورٹ میں امریکی صدر کے قریبی 2 ایسے ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے جو انتظامیہ کا حصہ نہیں ہیں، ان کے مطابق ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایران جنگ ختم کرنے میں ناکامی کا ذمے دار کس کو ٹھہرایا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر ذمے دار ٹھہرائے جانے والے حکام میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شامل ہیں، امریکی صدر نے ان دونوں کی کارکردگی کے بارے میں اپنے قریبی ساتھیوں سے رائے طلب کرنا شروع کر دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اب ان مشیروں کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں جنہوں نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ایران کے خلاف جنگ مختصر اور فیصلہ کُن ثابت ہو گی، ٹرمپ کسی بھی عہدے دار کو تبدیل کرنے سے پہلے اکثر اپنے دوستوں اور قریبی ساتھیوں سے مشاورت کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں ٹرمپ کو ان کے مشیروں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ تنازع وسط مدتی انتخابات سے کافی پہلے ختم ہو جائے گا تاہم یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔

ٹرمپ کے بعض قریبی حلقوں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پیٹ ہیگسیتھ کی مقبولیت کم بتائی جاتی ہے، رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر کو خوش رکھنے کے لیے وزیرِ دفاع صورتِ حال کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پُرامید اندازے پیش کرتے رہے ہیں۔

دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے ایک غیر سرکاری مشیر نے کہا کہ پیٹ ہیگسیتھ صدر کو وہی بات بتانے میں مہارت رکھتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں، تاہم پینٹاگون نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہیگسیتھ صدر کو آپریشنل صورتِ حال کی مکمل تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ دفاع نے حال ہی میں پینٹاگون کے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

اس معاملے میں جنرل ڈین کین کا دفتر بھی بظاہر صورتِحال سے پوری طرح آگاہ نہیں تھا، ابتداء میں ان کے دفتر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بریٹ سلویا کی کئی دہائیوں پر محیط خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا، تاہم چند گھنٹوں بعد اسی بیان سے متعلق وضاحت جاری کی گئی کہ سابقہ بیان برطرفی کے مکمل حالات کی درست عکاسی نہیں کرتا تھا۔

جواب دیں

Back to top button