پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمت میں حالیہ دنوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا گیا ہے اور اس کی قیمت پاکستان میں 600 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی۔
پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات نے اس ہفتے ملک میں مہنگائی کے اعداد و شمار میں بھی ایل پی جی کی قیمت میں بڑے اضافے کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان میں ایل پی جی شعبے کے وابستہ ڈیلرز کے مطابق ملک میں 11.67 کلو ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 7000 روپے تک پہنچ گئی ہے جو گذشتہ ہفتے 4500 روپے تھی۔
ادارہ شماریات کے مطابق موجودہ ہفتے کے اختتام تک گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں 22.50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ گذشتہ سال کے اکتوبر کے اس ہفتے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں 107 فیصد زیادہ ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں تیل و گیس شعبے کے نگران ادارے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ملک میں اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے تاہم اس وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی 550 روپے کلو سے لے کر 610 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی کا استعمال سردیوں کے موسم کے آغاز پر بڑھ جاتاہے اور اس کی طلب میں اضافے کی وجہ سے قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے تاہم موجودہ سیزن میں اس کی قیمت میں بڑے اضافے کی وجہ سے ایران کے ساتھ سرحد کی بندش کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی میں تعطل ہے۔
پاکستان میں مقامی ریفائنریوں اور آئل و گیس فیلڈ سے ایل پی جی کی پیداوار کے علاوہ ایران سے ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے۔
پاکستان میں ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے قیمتوں میں اضافے کی تصدیق کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ’آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سرحد کی بندش سے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔‘
‘تاہم اس کے ساتھ ریگولیٹر ادارے کی جانب سے سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فروخت کو یقینی نہ بنانا ہے، حالانکہ سرکاری نرخ میں ڈسٹری بیوٹرز کے لیے بھی اچھا منافع شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی زیادہ تر سپلائی مقامی ریفائنریوں اور گیس فیلڈز سے آتی ہے، لیکن کسی روک ٹوک کے بغیر اس کی بلیک مارکیٹنگ کی جا رہی ہے۔‘






