سپیشل رپورٹ

مونچھوں والے نومولود بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

ایک نومولود بچے کی گھنی اور سیاہ مونچھوں والی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جسے لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔

ویڈیو میں بچے کے ہونٹوں کے اوپر سیاہ بال دکھائی دیتے ہیں، جس نے صارفین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس کے مطابق ویڈیو ایکواڈور کی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ویڈیو کو لاکھوں مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، جبکہ بچے کی غیر معمولی شکل پر دلچسپ تبصرے اور مزاحیہ تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔

بعض صارفین نے بچے کی مصنوعی تصاویر بھی تیار کیں، جن میں اسے فوجی وردی، سگار کے ساتھ کاروباری لباس اور جنگجو کے روپ میں دکھایا گیا۔

طبی معلومات کے مطابق بعض نومولود بچوں کے جسم پر نرم اور باریک بال ہوتے ہیں، جنہیں لینوگو کہا جاتا ہے، یہ بال کمر، کندھوں، کانوں اور چہرے پر بھی ہو سکتے ہیں اور عموماً پیدائش کے چند ہفتوں بعد ختم ہو جاتے ہیں، تاہم یہ بال عام طور پر ویڈیو میں دکھائی دینے والی گھنی اور نمایاں مونچھوں جیسے نہیں ہوتے۔

بین الاقوامی میڈیا کی فیکٹ چیک رپورٹ میں ویڈیو میں ڈیجیٹل ترمیم کے ممکنہ شواہد کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بچے کے سر اور چہرے کی حرکت کے ساتھ مونچھوں کی حرکت قدرتی دکھائی نہیں دیتی، جبکہ ان کی ساخت بھی بچے کے حرکت کرنے پر غیر معمولی انداز میں تبدیل ہوتی ہے، مونچھوں پر پڑنے والی روشنی بھی اسپتال کے کمرے کی روشنی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تاحال کسی اسپتال، ڈاکٹر، طبی ریکارڈ یا اہلِ خانہ نے ویڈیو کی تصدیق نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق بچہ حقیقی ہو سکتا ہے، تاہم اس کی مونچھیں مصنوعی ذہانت پر مبنی چہرے کے فلٹر یا کسی دوسرے ڈیجیٹل ٹول کے ذریعے شامل کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹ نے پیدائشی ہائپرٹرائیکوسس جیسی نایاب طبی کیفیت کا بھی ذکر کیا ہے، جس میں جسم کے بعض حصوں یا پورے جسم پر غیر معمولی بال اگ سکتے ہیں، بعض صورتوں میں بال جھڑنے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا مائنوکسیڈل سے بچے کی جلد کے رابطے کے بعد بھی غیر معمولی بال اگنے کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وائرل ویڈیو میں دکھائے گئے بچے کا ان طبی کیفیات میں سے کسی ایک سے متاثر ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں، دستیاب معلومات کی بنیاد پر بچے کی مونچھیں قدرتی بالوں کے بجائے ڈیجیٹل فلٹر کا نتیجہ ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

جواب دیں

Back to top button