میری بیٹی نے 15 برس کی عمر میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی: سابق امریکی صدر

امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانیے پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ میں مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے بدنام کرنے والوں سے تنگ آ چکا ہوں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں سابق صدر نے جنوبی فلوریڈا کے ایک گرجا گھر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکیوں کو مسلمانوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا، اس حوالے سے انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات بھی بیان کیں۔
وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کے گورنر کے امیدوار ڈیوڈ جولی کی انتخابی مہم کے دوران 80 سالہ سابق صدر کلنٹن نے ایک اجتماع سے خطاب کیا۔
اس موقع پر انہوں نے انکشاف کیا کہ میری بیٹی نے 15 برس کی عمر میں قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی، مجھے اس نے بتایا تھا کہ قرآن اس بات کا درس دیتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسانوں کو قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ہر مذہب میں برے عناصر موجود ہوتے ہیں، ہم سب خامیوں کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر صرمپ نے فرانس میں حالیہ ہنگامہ آرئی پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پیرس جلد ایک مسلم شہر بن جائے گا۔
جس پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس میں بدامنی پر ٹرمپ کے بیانات ناقابلِ قبول و احمقانہ ہیں۔







