بین الاقوامی

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ صدر کی مدتِ صدارت کے وسط میں ہونے والے یہ انتخابات اس بات کا اہم پیمانہ سمجھے جاتے ہیں کہ امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔

کانگریس میں ڈیموکریٹس کی پیش رفت: ڈیموکریٹس نے پہلے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کی اور پھر مین، آئیوا، اوہائیو، کینساس اور ٹیکساس میں کامیابیوں کے بعد سینیٹ میں بھی اکثریت کی جانب پیش رفت کی۔

ریپبلکن گڑھوں میں کامیابیاں: ڈیموکریٹس نے جنوبی کیرولائنا، کینساس اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں سینیٹ کی نشستیں حاصل کیں، جو کئی دہائیوں سے ریپبلکنز کے زیرِ اثر تھیں۔ کینساس میں تقریباً ایک صدی سے کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب نہیں ہوا تھا۔

ٹیکساس میں بڑی کامیابی: جیمز تالاریکو کی سینیٹ میں کامیابی اور جینا ہینوخوسا کے گورنر منتخب ہونے کے ساتھ ڈیموکریٹس نے ٹیکساس میں ریاست گیر سطح پر دو بڑی فتوحات حاصل کیں۔ یہ ریاست تقریباً دو نسلوں سے مضبوط ریپبلکن گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔

جنوبی کیرولائنا میں حیران کن نتیجہ: ڈیموکریٹ اینی اینڈریوز نے ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دی، جو سینیٹر لنڈسی گراہم کی بہن ہیں۔ اس نتیجے کو ریپبلکنز کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کے لیے واضح پیغام؟ بی بی سی کی شمالی امریکہ کی ایڈیٹر سارہ سمتھ کے مطابق امریکی ووٹروں نے ٹرمپ کی گزشتہ دو برس کی پالیسیوں کے بارے میں اپنا موقف واضح انداز میں ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول یہ صرف ڈیموکریٹس کی لہر نہیں بلکہ ایک ’سیاسی زلزلہ‘ دکھائی دیتا ہے۔

ٹرمپ کا ردعمل: فاکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نتائج پر ’کچھ حیران‘ ہیں، تاہم انھوں نے ڈیموکریٹس کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اچھا کام کیا‘ اور دونوں جماعتیں کئی معاملات پر مل کر کام کر سکتی ہیں۔

نتائج ابھی مکمل نہیں: مشی گن اور الاسکا سمیت بعض اہم ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔

ٹرمپ کے لیے آگے کیا؟ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو وہ صدر کے قانون سازی کے ایجنڈے کو چیلنج کر سکتے ہیں، مختلف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں اور حتیٰ کہ مواخذے کی نئی کوششیں بھی زیرِ غور لا سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button