پاکستان

پاکستان اور چین نے مشترکہ سرحدی کمیشن فعال کر دیا، انڈیا کا اعتراض

پاکستان اور چین نے اپنی مشترکہ سرحد کے انتظام کے لیے ایک نیا مشترکہ کمیشن فعال کر دیا ہے جسے دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے کمیشن کے پہلے اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے شرکت کی۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق یہ پلیٹ فارم سرحدی انتظام، تجارت، مشترکہ سروے اور عوامی روابط کے فروغ میں مدد دے گا۔

یہ کمیشن 2013 میں پاکستان اور چین کے درمیان طے پانے والے سرحدی انتظام کے معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم اب اسے باقاعدہ طور پر فعال کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے سرحدی نشانات کی دیکھ بھال، سرحد پار سہولیات کے انتظام، مشترکہ جائزوں اور دیگر عملی امور پر رابطہ کاری کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خنجراب گزرگاہ کے ذریعے ہونے والی آمدورفت، تجارت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے جڑے معاملات میں تعاون مزید مضبوط ہو سکے گا۔

دوسری جانب انڈیا نے پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی امور سے متعلق مبینہ مشترکہ کمیشن کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کسی بھی قسم کی سرحد موجود نہیں اور اس نوعیت کا کوئی کمیشن قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی کا اس معاملے پر مؤقف ’واضح اور مستقل‘ ہے اور وہ پاکستان-چین سرحدی کمیشن کے تصور کو تسلیم نہیں کرتے۔

تاہم پاکستان اور چین کا مؤقف ہے کہ نیا کمیشن کسی سرحدی تنازع سے متعلق نہیں بلکہ پہلے سے متعین سرحد کے انتظام اور عملی مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان میں انڈیا نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام علاقے انڈیا کا ’اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ‘ حصہ ہیں اور پاکستان کو ان علاقوں سے متعلق کسی قسم کے انتظام یا معاہدے کا اختیار حاصل نہیں۔

انڈین وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ 1963 کے چین-پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کرتی رہی اور اسے غیر قانونی قرار دیتی آئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیا ان علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے یا ’غیر قانونی قبضے‘ کو جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے۔ نئی دہلی کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان انڈین دعوے والے علاقوں سے متعلق ہونے والا کوئی بھی سرحدی تعاون انڈیا کی خودمختاری پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

انڈیا نے پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو ایسے اقدامات کے بجائے ان علاقوں سے دستبردار ہونا چاہیے جنھیں نئی دہلی اپنے زیرِ دعویٰ علاقے قرار دیتا ہے۔

پاکستان اور چین کی جانب سے انڈین بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button