پاکستان

مکہ دفاعی معاہدے میں فی الحال کسی اور ملک کی شمولیت زیرِ غور نہیں، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی ایک دوسرے سے مشاورت کر رہے ہیں لیکن اس وقت مکہ معاہدے میں کسی اور ملک کو شامل نہیں کیا جا رہا ہے، نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی بات چیت ہو رہی ہے۔‘

یہ کہنا تھا دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان سجاد حیدر کا جو جمعرات کو اسلام آباد میں ایک بریفنگ کے دوران سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

مکہ دفاعی معاہدے میں دیگر ممالک کی شمولیت کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی، جو اس وقت اس اتحاد کا حصہ ہیں، باقاعدگی سے ملاقاتیں اور مختلف سطحوں پر مشاورت کر رہے ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں۔ تاہم فی الحال مکہ معاہدے میں توسیع یا نئے ممالک کو شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان تینوں ممالک کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے موجودہ تعاون اور تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا ہے، جس کے بعد مستقبل میں ایسے دیگر ممالک کے لیے اتحاد میں شامل ہونے کا دروازہ کھل سکتا ہے جو یکساں نقطہ نظر اور ضروریات رکھتے ہوں۔

ان کے مطابق اس بارے میں فیصلہ بعد میں متعلقہ تینوں ممالک باہمی مشاورت سے کریں گے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ فی الوقت اس موضوع پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، اس لیے اس مرحلے پر نئے ممالک کی شمولیت کا سوال بھی قبل از وقت ہے۔

جواب دیں

Back to top button