بین الاقوامی

امریکی دباؤ کے باوجود جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز کے لیے فوج تعیناتی کا فیصلہ مؤخر کر دیا

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی تعیناتی کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

واشنگٹن روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چو ہیون نے کہا کہ ’ہماری پوزیشن بدستور یہی ہے کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور ہم تمام متعلقہ عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں جنوبی کوریا بین الاقوامی تعاون کو ترجیح دے گا، تاہم اپنے شہریوں کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے جنوبی کوریا پر دباؤ ڈالا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر سیول نے تعاون نہ کیا تو اگست میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران نے جنوبی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ جنگ میں حصہ لیتا ہے تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی اور عالمی امور سمیت مختلف اہم موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

جواب دیں

Back to top button