بین الاقوامی

وائٹ ہاؤس کے قریب گھاس پر لکھے پراسرار نمبر ’8647‘ نے امریکی پولیس اور نیشنل گارڈ کی دوڑیں لگوا دیں

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل مال کے علاقے میں گھاس پر ’8647‘ نمبر ظاہر ہونے کے بعد پولیس اور نیشنل گارڈ کی دوڑیں لگ گئیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نمبر کو امریکا میں قتل کی دھمکی تصور کیا جاتا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلے بھی متعدد بار قاتلانہ حملوں کا سامنا رہا ہے جس کے باعث سیکیورٹی اداروں نے فوری ردِعمل دیا۔

امریکی حکام کے مطابق ’8647‘ کو بعض حلقے سیاسی احتجاج کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاہم اس کی ایک تشریح یہ بھی کی جاتی ہے کہ ’86‘ کسی چیز یا شخص کو ختم کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ’47‘ ٹرمپ کے بطور 47 ویں صدر امریکا کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

اسی بنیاد پر امریکی محکمۂ انصاف پہلے بھی اس نمبر کو صدر کے خلاف خطرہ قرار دے چکا ہے۔

محکمۂ داخلہ کے ترجمان نے اسے بیمار ذہنیت پر مبنی انتشار پھیلانے کی سوچ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کے خلاف کسی بھی خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور امریکی پارک پولیس اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی اور ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

واقعے کے بعد گھاس کے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اپریل میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی پر بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر نمبر ’8647‘ لکھی ہوئی ایک تصویر شیئر کر کے صدر کو قتل کی دھمکی دی تھی۔

بعد ازاں انہوں نے یہ پوسٹ ہٹا دی تھی اور کہا تھا کہ مجھے اس نمبر کے معنی کا علم نہیں تھا۔

جیمز کومی اب اس مقدمے کا دفاع کر رہے ہیں اور اسے اظہارِ رائے کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔

حالیہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیشنل مال میں امریکا کی آزادی کی ڈھائی سو سالہ تقریبات کی تیاریاں جاری ہیں، 25 جون سے 16 روزہ ’گریٹ امریکن اسٹیٹ فیئر‘ بھی شروع ہونے والا ہے۔

مزید یہ کہ اتوار کو جو ٹرمپ کی سالگرہ بھی ہے، علاقے میں ’الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ‘ کا ایک بڑا مقابلہ منعقد ہونے کی توقع ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں عوام کی آمد متوقع ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی ٹرمپ کو متعدد سیکیورٹی خطرات کا سامنا رہا تھا جن میں انتخابی مہم کے دوران پنسلوانیا اور فلوریڈا میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعات شامل ہیں جنہیں بعد میں سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا تھا۔

جواب دیں

Back to top button