بین الاقوامی

آزادی اسکوائر پر آیت اللّٰہ علی خامنہ‌ای کا انگوٹھی پہنے ہاتھ کا دیو قامت مجسمہ نصب

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ‌ای کی میت کو گرینڈ مصلیٰ سے آزادی اسکوائر تک لے جایا گیا، جہاں لاکھوں افراد نے ان کے آخری سفر میں شرکت کی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران کے مرکز میں واقع آزادی اسکوائر پر خامنہ‌ ای کے انگوٹھی پہنے ہاتھ کا دیو قامت مجسمہ نصب کیا گیا ہے، جو مختصر عرصے میں ان کی آخری رسومات کے دوران مزاحمت کی نئی علامت بن کر ابھرا ہے۔

شہید خامنہ ای کے حامیوں کا کہنا ہے کہ 28 فروری کے امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد یہی انگوٹھی ان کی شناخت کی ایک نمایاں علامت بن گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق یہ یادگار صرف 4 دن میں تیار کی گئی اور اسے قومی استقامت، مزاحمت اور اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کی بیٹی، داماد، بہو اور 14 ماہ کی پوتی بھی شہید ہوئی تھیں، جن کے تابوت بھی عوام کے لیے رکھے گئے ہیں۔

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی 7 روزہ آخری رسومات کا آغاز جمعے کو (3 جولائی سے) تہران سے ہو گیا ہے، جس میں 100 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کر رہے ہیں جبکہ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے 2 کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔

جواب دیں

Back to top button