ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان‘ امریکہ کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اعلان کیے گئے نام نہاد ’اقتصادی ڈی ڈے‘ پر تنقید کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام دراصل اپنی ہی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ امریکہ کا ’اقتصادی ڈی ڈے‘ اس کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کا ایک طریقہ ہے۔
بدھ کی شام سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ’اقتصادی ڈی ڈے‘ (معاشی محاذ پر فیصلہ کن کارروائی) شروع کر رہے ہیں، کیونکہ ایران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔
اس کے بعد عباس عراقچی نے امریکہ کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور سود کی ادائیگیوں پر بڑھتے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانی اور ناکام پالیسیوں کو دہرانے سے امریکہ کو آئندہ بھی شکست اور ایرانی عوام کی ناراضی ہی حاصل ہوگی۔
انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی معاشی دہشت گردی پوری دنیا کی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبروں کے مطابق امریکہ کا قومی قرض 40 ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست تک مجموعی قومی قرض تقریباً 40.05 ٹریلین ڈالر تھا۔ یعنی گزشتہ تقریباً ایک دہائی کے دوران امریکہ کا قرض دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔







