عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف نظرثانی درخواست: منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، وفاقی حکومت

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو علاج کی غرض سے اسلام آباد کے شفا ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
اسلام آباد کے چیف کمشنر کے توسط سے دائر کی گئی اِس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے ملک میں قیدیوں کی ہسپتال منتقلی سے متعلق جیل قوانین میں درج طریقۂ کار کو مد نظر نہیں رکھا جس کے باعث منصفانہ ٹرائل اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے یہ درخواست وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے اُس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت عمران خان سے متعلق عدالتی حکم میں ترمیم کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
اعظم نذیر نے جیل قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی قیدی کا علاج سرکاری ہسپتال میں کیا جانا لازم ہے، الا یہ کہ میڈیکل بورڈ یہ قرار دے کہ مطلوبہ طبی سہولت سرکاری ہسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔
اور اب بدھ کی دوپہر دائر کی گئی نظر ثانی درخواست میں حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عبوری مرحلے پر (سابق وزیر اعظم کو) درخواست گزار کو سُنے بغیر ایسا حتمی نوعیت کا ریلیف دیا گیا ہے جس کے باعث مساوی سلوک کے آئینی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز (18 اگست کو) پاکستان کی سپریم کورٹ نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک ایسا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس میں عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں عدالت نے تنبیہ کی تھی کہ اگر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس یا صحت پر سیاست کی گئی تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔
حکومتی نظرِ ثانی کی حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے وقت پاکستان جیل قواعد 1978 کے رول نمبر 197 کو مد نظر نہیں رکھا، جس میں سزا یافتہ قیدیوں کی جیل سے باہر ہسپتال منتقلی کا طریقہ کار واضح انداز میں درج ہے۔







