ایران کیساتھ امریکی معاشی مہم ناکام ہونے کا امکان ہے: سابق امریکی سفیر

سابق امریکی سفیر مارک گنسبرگ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ معاشی مہم ایک ایسی ’معاشی اعصابی جنگ‘ ہے جس میں بالآخر واشنگٹن کے پیچھے ہٹنے کا امکان زیادہ ہے۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک گنسبرگ نے کہا ہے کہ امریکا طویل عرصے سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اختیار کرتا آیا ہے تاہم موجودہ صورتِ حال مختلف ہے کیونکہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر تنازع کا حصہ بن چکی ہے جبکہ ایران اپنی معیشت چلانے کے لیے درکار غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر تک بھی رسائی سے محروم ہے۔
سابق سفیر کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پاس اس بحران کے خاتمے کے لیے واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ امریکی صدر آگے کیا کرنا چاہتے ہیں تاہم واشنگٹن کی پالیسی کو ایک طویل اور انتہائی سخت مقابلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
مارک گنسبرگ نے موجودہ صورتِ حال کو ’معاشی بقاء کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ تصادم سے پہلے امریکا یا ایران میں سے کون پیچھے ہٹتا ہے؟
انہوں نے عرب میڈیا سے گفتگو کے دوران واضح الفاظ میں یہ بھی کہا کہ میرے خیال میں بالآخر امریکی انتظامیہ ایرانی حکومت کے مقابلے میں پہلے دباؤ کم کرنے یا پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گی۔







