پشاور ہائی کورٹ میں وزیراعلی سہیل آفریدی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت، حکام کو دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلی سہیل آفریدی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران حکومت اور پولیس سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
منگل کے روز پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل بنچ نے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی بازیابی کے متعلق درخواست کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلی کو حراست میں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ کو دو مقامات پر رکھے جانے کی اطلاعات ہیں جن میں سے ایک شاہی مہمان خانہ ہے۔
دورانِ سماعت، جسٹس سید ارشد علی نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ انھوں نے چیف سیکرٹری کو کیوں فریق نہیں بنایا۔
سماعت کے بعد عدالت نے حکومت اور پولیس سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو روز میں جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے صوبائی صدر جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے کی۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انھیں حراست میں لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ یہ کہاں پر ہیں۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ سپیکر بابر سلیم سواتی کے پاس آئینی عہدہ ہے تاہم اس کے باوجود انھیں حراست میں لیا گیا۔
عدالت نے حکومت، آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔







