پاکستانسیاسیات

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ اس قرارداد پر اس وقت بحث جاری ہے۔

قرارداد پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں نظام اکھاڑ نہیں پھینکا گیا بلکہ حکومت کو غیرفعال کیا گیا ہے۔ انھوں نے وضاحت دی کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے داخلی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد، مواد کا جائزہ لینے کے بعد اور ڈھائی گھنٹے کی کابینہ کی بحث کے بعد وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا کہ خیبر پختونخوا کے حالات ایسے ہیں کہ خلفشار اور سرحد پار دراندازی ہو رہی ہے۔۔۔ وفاق اور صوبے کا ایک ہو کر اس کے سامنے کھڑا ہونا ہی مضبوط پاکستان کے لیے ضروری ہے۔‘

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال مسلسل بگڑتی رہی، جہاں 2021 سے 2024 تک دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق 2,911 واقعات پیش آئے، جبکہ صرف ایک سال، 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 کے دوران، ایسے واقعات کی تعداد 3,787 تک پہنچ گئی، جو گذشتہ تین برسوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران رونما ہونے والے واقعات بھی سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبائی حکومت صورتحال کی سنگینی کے مطابق ردِعمل دینے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فورسز اور شہریوں کی قربانیوں اور شہادتوں کو نظر انداز کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد اور زخمیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں اور ملک گیر دوروں کو ترجیح دی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جاتا، زخمیوں کی عیادت کی جاتی اور عوام کو یقین دلایا جاتا کہ حکومت ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب صورتحال غیرمعمولی حد تک سنگین ہو جائے تو ریاستی ردِعمل بھی غیرمعمولی ہونا چاہیے، معمول کے اقدامات ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔

انھوں نے کہا کہ دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے ’فتح‘ کرنے جیسے اعلانات بھی کیے گئے۔ ان کے بقول حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے طاقت کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سپیکر نے بھی ثالثی اور مذاکرات کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ معاملے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی گرفتار شخص کی رہائی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔

جواب دیں

Back to top button