آپریشن سندور 2؟ پاکستان کو کئی محاذوں پر گھیرنے کی بحث

تحریر: رانا محمد عمران — میلبورن، آسٹریلیا
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بلوچستان میں بدامنی، آزاد کشمیر کی صورتحال اور خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ میں رکھنے کی کوئی وسیع تر حکمتِ عملی تشکیل پا رہی ہے؟
پاکستان میں بعض سیاسی و دفاعی تجزیہ کار ان حالات کو بھارت کی مبینہ علاقائی حکمتِ عملی سے جوڑتے ہوئے اسے ’’آپریشن سندور 2‘‘ جیسے ناموں سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بھارت براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کے مغربی محاذ پر دباؤ بڑھانے، افغانستان کے ساتھ اختلافات کو ہوا دینے اور پاکستان کے اندر ریاست مخالف سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
تاہم صحافتی اعتبار سے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ ایسے دعووں کے لیے آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد درکار ہیں۔ بھارت کی جانب سے افغان گروہوں، پاکستان میں موجود کسی مخصوص تنظیم یا یمن کے حوثی باغیوں کی مالی یا عملی سرپرستی کے الزامات کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا اس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اس کے ٹھوس شواہد سامنے نہ آئیں۔
کیا مقصد پاکستان کو کئی محاذوں پر مصروف رکھنا ہے؟
خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: اگر پاکستان کو مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد، اندرونی سکیورٹی اور سفارتی محاذ پر بھی مسلسل دباؤ کا سامنا رہے تو اس کے قومی وسائل کس حد تک تقسیم ہوں گے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے ہی سرحد، دہشت گردی، ٹی ٹی پی اور ایک دوسرے پر عائد الزامات جیسے سنگین معاملات موجود ہیں۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کے لیے داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی دونوں محاذوں پر مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اسی تناظر میں بھارتی پالیسی پر تنقید کرنے والے حلقے یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا نئی دہلی پاکستان اور افغانستان کے اختلافات سے سفارتی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، لیکن اس کا جواب جذباتی بیانات کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد سے تلاش کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر بیانیے کی جنگ
بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ صرف فوجی میدان تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک عالمی رائے عامہ، سفارت کاری اور میڈیا کے ذریعے اپنے اپنے مؤقف کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارت نے حالیہ برسوں میں اپنی سفارتی رسائی میں اضافہ کیا ہے اور خلیجی ممالک سمیت مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ اپنے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ پاکستان بھی اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے بھارتی مؤقف کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
بھارت کے لیے مشرقِ وسطیٰ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور بیرونِ ملک بھارتی شہریوں سے متعلق مفادات اس خطے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
مسلم دنیا میں بھارت کا مقدمہ
بھارت دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک رکھتا ہے، اور بھارتی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کو اپنی سفارتی تصویر کا حصہ بھی بنایا ہے۔
لیکن دوسری جانب بھارت میں مسلمانوں کے حقوق، مذہبی آزادی، امتیازی سلوک اور سیاسی پولرائزیشن کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومت کے ناقدین کی جانب سے مسلسل سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بھارتی حکومت اور اس کے حامی ان میں سے کئی الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
یہی تضاد بھارت کی مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی حکمتِ عملی کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج پیدا کرتا ہے: ایک طرف بھارت ایک بڑی مسلم آبادی والے ملک کے طور پر خود کو پیش کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی داخلی مذہبی سیاست پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
یمن کا محاذ اور ایک سنگین الزام
کچھ حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ بھارت یمن میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرکے پاکستان کو ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں الجھانا چاہتا ہے۔ یہ دعویٰ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس کے لیے مضبوط، آزاد اور قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔
اسی اصول کا اطلاق پاکستان کے اندر مبینہ بھارتی معاونت، بلوچستان میں عسکریت پسند سرگرمیوں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی پر بھی ہونا چاہیے۔
صحافت کا کام صرف سوال اٹھانا نہیں بلکہ یہ بھی واضح کرنا ہے کہ کیا ثابت ہوچکا ہے، کیا الزام ہے اور کیا صرف تجزیہ یا قیاس آرائی ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج
پاکستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ علاقائی دباؤ کا جواب جذباتی ردعمل کے بجائے مضبوط سفارت کاری، داخلی استحکام، مؤثر سرحدی انتظام اور ٹھوس شواہد کے ساتھ دے۔
اگر واقعی مختلف محاذوں پر پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کی کوئی مربوط حکمتِ عملی موجود ہے تو اس کا مقابلہ بھی صرف عسکری قوت سے نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری، معلوماتی جنگ میں پیشہ ورانہ حکمتِ عملی اور اندرونی سیاسی استحکام بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پہلے ہی جنوبی ایشیا کو کئی بار خطرناک موڑ تک لے جا چکی ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
اس لیے آج اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’آپریشن سندور 2‘‘ حقیقت ہے یا نہیں؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت کے پیچھے موجود شواہد کیا ہیں، مختلف ممالک کے مفادات کیا ہیں، اور ان واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے ہمارے پاس کتنی قابلِ اعتماد معلومات موجود ہیں۔
جنوبی ایشیا کو ایک اور جنگ نہیں، بلکہ ذمہ دار سفارت کاری اور حقیقت پر مبنی علاقائی پالیسی کی ضرورت ہے۔






