بین الاقوامی

ٹرمپ نے نٹالی ہارپ سمیت تین معاونین کو 45، 45 ہزار ڈالر کے نقد تحائف دیے، سرکاری دستاویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے عملے کے چار ارکان کو قابلِ ذکر نقد تحائف دیے ہیں، جن میں ان کی قریبی معاون نٹالی ہارپ بھی شامل ہیں جنھوں نے 45,000 ڈالر وصول کیے۔ یہ بات ان کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی گوشواروں میں سامنے آئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق عملے کے دو دیگر ارکان کو بھی ہارپ کے برابر رقم ملی، جبکہ ٹرمپ کے طویل عرصے سے معاون اور اوول آفس آپریشنز کے ڈائریکٹر والٹ ناوٹا کو 22,000 ڈالر دیے گئے۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے کسی اور ملازم نے صدر کی جانب سے دیے گئےتحائف کا اندراج نہیں کروایا۔ وفاقی ملازمین کو اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے بدلے بیرونی معاوضہ وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

وائٹ ہاؤس نے ان تحائف کو ذاتی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا عملے کے ارکان کے سرکاری کام سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ امریکی قانون کے تحت جائز ہیں۔

بی بی سی کو فراہم کیے گئے ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ’اپنے حلقۂ اثر میں شامل افراد کو کرسمس کے تحائف دینے کی ایک دیرینہ روایت رکھتے ہیں، جن میں بعض اوقات سرکاری ملازمین اور معاونین بھی شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اس وقت کے ہوں جب ٹرمپ نجی شعبے سے وابستہ تھے۔‘

عہدیدار نے مزید کہا کہ ’زیرِ بحث یہ تحائف ان افراد کی کسی بھی سرکاری ذمہ داری سے متعلق نہیں ہیں اور متعلقہ قانونی اور اخلاقی معیارات کے تحت مکمل طور پر جائز ہیں۔‘

157,000 ڈالر مالیت کے یہ نقد تحائف نوٹا، ہارپ اور دو دیگر عہدیداروں، یعنی کمیونیکیشنز کے مشیر مارگو مارٹن اور وائٹ ہاؤس کے معاون چیمبرلین ہیرس، جو ٹرمپ کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں، کے لیے ’تعطیلات کے موقع پر نقد تحفہ‘ کے طور پر دستاویزات میں درج ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کے اس علیحدہ سوال کا جواب نہیں دیا کہ فہرست میں شامل دیگر 91 ملازمین کو یہ تحائف کیوں نہیں دیے گئے۔

نقد تحائف وصول کرنے والے چاروں افراد کو امریکی صدر کے قریبی حلقے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

35 سالہ نٹالی ہارپ کا شمار ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والوں اور انتہائی وفادار معاونین میں ہوتا ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل کی پوسٹس کو تحریری شکل دینا بھی شامل ہے۔

گذشتہ ماہ وہ اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب ان کا نام ان چند افراد میں شامل تھا جو ترکی سے روانگی کے وقت ٹرمپ کے ساتھ موجود رہے، جب وہ خفیہ طور پر ایک طیارے سے دوسرے طیارے میں منتقل ہوئے تھے۔

والٹ ناوٹا، جو امریکی بحریہ کے سابق اہلکار ہیں، بھی طویل عرصے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں۔ وہ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران وائٹ ہاؤس میں فوجی معاون کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے اور بعد ازاں ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد فلوریڈا میں واقع ان کی مار-اے-لاگو رہائش گاہ پر معاون کے طور پر ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔

جون 2023 میں ان پر ٹرمپ کے ساتھ قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات کے غلط استعمال کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی، تاہم یہ مقدمہ بعد میں خارج کر دیا گیا۔

تیسری شخصیت، مارگو مارٹن، سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی سرگرمیوں کی دستاویزی کوریج کے لیے جانی جاتی ہیں۔

جبکہ چوتھے شخص، 26 سالہ چیمبرلین ہیرس، باضابطہ طور پر صدر کے ایگزیکٹو اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فروری میں انہیں امریکی کمیشن برائے فنونِ لطیفہ کا رکن بھی مقرر کیا گیا تھا، جو وائٹ ہاؤس کے بال روم اور واشنگٹن میں ٹرمپ کی ہدایت پر جاری دیگر منصوبوں کی تعمیر کی نگرانی کرتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں خدمات انجام دینے والے عملے کو کسی حاضر سروس امریکی صدر کی جانب سے نقد تحائف دیے جانے کی کوئی دوسری معروف مثال موجود نہیں ہے۔

تاہم بہت سے صدور ماضی میں اپنے عملے کو یادگاری تحفے میں دیتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر صدر براک اوباما نے اپنے سابق پریس سیکریٹری رابرٹ گِبز کو ایک فریم میں جڑی ہوئی ٹائی تحفے میں دی تھی، جسے انہوں نے 2004 کے ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن سے قبل ایک موقع پر گِبز سے ادھار لیا تھا۔

جواب دیں

Back to top button