نیتن یاہو کے جنرل اسمبلی میں جھوٹے دعوے، عالمی اداروں نے پول کھول دی

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کے دفاع کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متعدد بار جھوٹے دعوے کیے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ان متعدد دعوؤں کو بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق اور امدادی تنظیموں اور بعض صورتوں میں خود اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار نے بھی چیلنج کیا ہے۔
ایسے 5 دعوؤں کے جائزے سے نیتن یاہو کے مؤقف اور دستاویزی شواہد کے درمیان نمایاں تضادات سامنے آتے ہیں۔
2026ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اسرائیل کے غزہ میں نسل کشی کرنے کے الزامات کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ شہریوں کو پیشگی خبردار کرنا، ویکسین فراہم کرنا اور خوراک پہنچانا نسل کشی کے الزام سے مطابقت نہیں رکھتا، تاہم ستمبر 2025ء میں اقوامِ متحدہ کے تحت قائم آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اس کے برعکس نتیجہ اخذ کیا۔
کمیشن نے عینی شاہدین کے بیانات، سیٹلائٹ تصاویر، سرکاری بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس بات کی معقول بنیاد موجود ہے کہ اسرائیلی حکام اور افواج نے نسل کشی کے کنونشن میں متعین 5 میں سے 4 افعال کا ارتکاب کیا۔
کمیشن نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام کے بیانات نسل کشی کے ارادے کے شواہد میں شامل ہیں، جبکہ اسرائیل نے کمیشن کے نتائج کو مسترد کر دیا۔
2025ء میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں شہریوں اور جنگجوؤں کی ہلاکتوں کا تناسب 2 کے مقابلے میں 1 سے بھی کم ہے اور اسے غیر معمولی طور پر کم قرار دیا۔
27 ستمبر 2024ء کو اقوامِ متحدہ سے خطاب میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ اور کوئی فوج وہ نہیں کر رہی جو اسرائیل غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کرنے کے لیے کر رہا ہے۔
دی گارڈین، +972 میگزین اور لوکل کال کی مشترکہ تحقیقات جو اسرائیلی فوج کے ایک خفیہ انٹیلی جنس ڈیٹا بیس پر مبنی تھی، اس کے مطابق مئی 2025ء تک تقریباً 8,900 نامزد حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد کے جنگجو شہید ہوئے، جبکہ مجموعی شہداء کی تعداد تقریباً 53,000 تھی۔
ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہید ہونے والوں میں تقریباً 83 فیصد شہری تھے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023ء میں اسرائیل کی غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 73,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور تقریباً 1 لاکھ 75,000 زخمی ہو چکے ہیں۔
نیتن یاہو بارہا الزام عائد کر چکے ہیں کہ غزہ میں داخل ہونے والی امداد کا بڑا حصہ حماس چوری کر لیتی ہے۔
2026ء میں اقوامِ متحدہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حماس نے ہماری جانب سے غزہ میں داخل کی جانے والی بیشتر خوراک چوری کر لی اور دعویٰ کیا کہ تنظیم فلسطینی شہریوں کو خطرے میں رکھ رہی ہے۔
امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے ایک داخلی جائزے میں حماس کی جانب سے امریکی مالی اعانت سے فراہم کی جانے والی امداد کو منظم طور پر ہتھیانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
جائزے میں اکتوبر 2023ء سے مئی 2025ء کے درمیان امداد کی چوری یا ضائع ہونے کے 156 واقعات کا جائزہ لیا گیا، تاہم ایسی کوئی علامت نہیں ملی کہ حماس نے ان سے فائدہ اٹھایا ہو۔
نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 2 ملین ٹن خوراک کی تقسیم ممکن بنائی، جو تقریباً ہر فرد کے لیے 1 ٹن بنتی ہے۔
انہوں نے اس اعداد و شمار کو غزہ میں بھوک اور نسل کشی کے الزامات کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ کون سی نسل کش حکومت غزہ میں 2 ملین ٹن خوراک کی تقسیم ممکن بناتی ہے؟ یہ ہر شخص کے لیے 1 ٹن ہے، تاہم غزہ میں امداد کا داخل ہونا اس بات کے مترادف نہیں کہ خوراک شہریوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں نے ایسی پابندیوں، عدم تحفظ، تباہ شدہ سڑکوں اور فوجی کارروائیوں کی دستاویزات تیار کی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے امداد کے حصول اور تقسیم میں رکاوٹیں پیدا کیں۔
اسرائیل نے 2 مارچ سے 18 مئی 2025ء تک غزہ میں امدادی اشیاء اور انسانی امداد کی آمد مکمل طور پر روک دی تھی۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے جنگ کے دوران طویل ادوار میں انسانی امداد کی ترسیل کو بارہا روکا، محدود کیا یا معطل کیا۔
اگست 2025ء میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (IPC) نے غزہ گورنریٹ میں قحط کی تصدیق کی۔
ادارے نے کہا کہ غزہ بھر میں 5 لاکھ سے زائد افراد کو ایسے تباہ کن حالات کا سامنا تھا جن میں بھوک، محرومی اور موت شامل تھی۔
IPC کے تازہ ترین جائزے کے مطابق دسمبر 2026ء تک مزید 1.4 ملین افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کی بلند سطحوں کا سامنا رہنے کا امکان ہے۔
2026ء میں اپنے خطاب میں نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کو تقریباً 150 نو عمر جرائم پیشہ افراد کی کارروائی قرار دیا اور اشارہ دیا کہ صرف 2 یا 3 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کی نگرانی سے کہیں وسیع تر صورتِ حال سامنے آتی ہے۔
20 جولائی 2026ء تک اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (OCHA) نے رواں سال کے آغاز سے آباد کاروں کے ایسے 1,330 سے زائد حملے ریکارڈ کیے تھے جن کے نتیجے میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا، یہ اوسطاً روزانہ 6 سے زیادہ حملے بنتے ہیں۔
OCHA کے مطابق رواں سال 20 جولائی تک آباد کاروں کے حملوں سے منسلک 18 فلسطینی ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئی تھیں۔
جنوری 2023ء سے جولائی 2026ء کے درمیان OCHA کے مطابق آباد کاروں کے حملوں اور ان سے متعلق نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے نتیجے میں 121 فلسطینی آبادیوں کے لوگ مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہوئے۔
یہ اعداد و شمار آباد کاروں کے تشدد کو ایک محدود یا معمولی واقعے کے طور پر پیش کرنے والے نیتن یاہو کے مؤقف کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔







