بین الاقوامی

ایران کے بیلسٹک میزائل اب بھی مؤثر جنگی صلاحیت کے حامل ہیں: امریکی اخبار

ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی زیرِ زمین قائم میزائل کی صلاحیت کو جزوی طور پر دوبارہ بحال کر لیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے گزشتہ روز فوجی ماہرین اور سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی اور اسرائیلی حملوں سے نشانہ بننے والے اپنے ہتھیاروں کے بنیادی ڈھانچے کے بعد میزائل کی صلاحیت کے بعض حصے دوبارہ بحال کر لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اردن میں ایک فضائی اڈے پر مہلک حملے کے بعد ایران نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا ایک مؤثر ذخیرہ موجود ہے، جو ناصرف امریکی افواج بلکہ خطے میں امریکا کے اتحادیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔

یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق جمعے کو اردن کے مووفق السلطي ایئر بیس پر ہونے والا حملہ، جس میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایران کے مؤثر ترین میزائل نظاموں کے ذریعے کیا گیا، ان میں درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا خیبر شکن بیلسٹک میزائل بھی شامل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر شکن سمیت متعدد جدید میزائل نظام ایسے وسیع زیرِ زمین فوجی مراکز میں محفوظ تھے، جنہیں امریکا اور اسرائیل نے مارچ اور اپریل کے دوران کئی ہفتوں تک شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے بعد ایران نے ان زیرِ زمین تنصیبات کے داخلی راستوں کو دوبارہ بحال کیا ہے اور بعض اڈوں سے میزائلوں کی فائرنگ کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button