پاکستان

پنجاب میں اسپتال عملے کیلئے ’باڈی کیمرے‘ لازمی قرار، طبی حلقوں میں تشویش کی لہر

پنجاب کے اسپتالوں کے عملے کے لیے باڈی کیمرے لازمی قرار دینے کے حکومتی فیصلے پرطبی عملے اور حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام مشاورت کے بغیر مسلط کیا گیا ہے، اس سے طبی مراکز کے اندر مریضوں کی رازداری اور احترام سمیت ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا خطرہ ہے۔

باڈی کیمرے ایسے پہننے کے قابل آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ آلات ہوتے ہیں جن کے ذریعے کارروائی کی فوٹیج بطور شواہد محفوظ کی جاتی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ کو اسپتالوں کے رویے اور غفلت و لاپروائی کے بارے میں عوامی شکایات موصول ہونے پر ڈاکٹروں کے علاوہ نرسوں، وارڈ بوائز، سیکیورٹی گارڈز اور فارمیسی عملے کے لیے باڈی کیمز لازمی قرار دینے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ ماہ لاہور کے نشتر اسپتال نے مریض کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر ایڈیشنل ہاؤس آفیسر کے طور پر کام کرنے والے ایک ڈاکٹر کو برخاست کر دیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔

حکام نے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا ہے اور اسے جلد بازی، ناقص منصوبہ بندی اور مریضوں کے بنیادی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے، اگر اس کا فیصلہ کر بھی لیا جائے اور عملی طور پر لاگو کیا جائے، تو یہ صحت کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مفید تکنیک نہیں ہوگی۔ یہ الٹا اثر کرے گا اور حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گا‘۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی سطح پر کسی فرد یا کسی فورم سے مشاورت نہیں کی اور اس فیصلے کو غیر منطقی، ناقابل عمل قرار دیا جو مریضوں کے ساتھ ساتھ شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

ڈاکٹر چوہدری نے کہا کہ صحت کے شعبے کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسے سب کے لیے مفت بنانے کے اقدامات کرنے کے بجائے، حکومت ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جس سے صحت کے پیشہ ور افراد کی زندگیوں اور ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے صحت کے اداروں کو فروخت کرنے اور کام کے حالات کو جان بوجھ کر ابتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کے لیے یہ فیصلہ ایک بے سود عمل ہے جس کے لیے ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے بالکل بھی مشاورت نہیں کی گئی، یہ فیصلہ اوپر سے آیا ہے اور یہ ایک بے سود عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے فیصلے مثال کے طور پر ہپستال میں ڈیوٹی پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ یہ اقدام مریض کی رازداری پر سمجھوتہ کرے گا۔ مثال کے طور پر گائنی اور لیبر وارڈز میں، فوٹیج آئی ٹی ڈپارٹمنٹ کے پاس جائے گی اور کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

باڈی کیمز کے لیے فنڈنگ کے ذرائع پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر نیازی نے کہا کہ میو ہسپتال میں سیکیورٹی گارڈز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، حکومت باڈی کیمز کیسے فراہم کرے گی؟ پیسہ کہاں سے آئے گا؟۔

وائی ڈی اے پنجاب کے صدر نے کہا کہ وہ جلد ہی اس مسئلے سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے اور اس بارے میں تفصیل سے بات کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button