جرم و سزا

چند روز قبل قتل ہونے والے مسیحی نوجوان کے ملزمان گرفتار, صوبائی وزیر اقلیتی امور کی ڈی آئی جی کے ہمراہ پریس کانفرنس

صوبائی وزیر اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑہ نے ڈی آئی جی او سی یو عمران کشور کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ چند روز قبل تھانہ ریس کورس کی حدود میں ایک مسیحی نوجوان کو ہمسائے نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے تھے۔ وقوعہ کے بعد ڈی آئی جی او سی یو عمران کشور کی ہدایت پر ایس پی فرقان بلال، ڈی ایس پی توقیر انجم اور انسپکٹر عاطف عمران پر مشتمل ایک ٹیم بنائی گئی، جس نے ایک ہفتے میں عمدہ کارکردگی کا ثبوت دیتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر مسیحی نوجوان کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان کو یقین دلایا کہ بہت جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے اہلخانہ کو مکمل تحفظ کا یقین دلایا تاکہ مذہبی اقلیتوں میں احساس محرومی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی آئی جی او سی یو عمران کشور کا کہنا تھا کہ چند روز قبل علاقہ تھانہ ریس کورس لاہور میں ہونے والی قتل کی لرزہ خیز واردات کا ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ اس میں اغواء برائے تاوان سیل نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قتل کی واردات میں ملوث مرکزی ملزمان گرفتار کر لیے ہیں۔ گرفتار ملزمان میں سرغنہ سجادالحسن عرف ملک شانی، محمد اعظم، محمد سلطان اور محمد مبشر شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان نے چند روز قبل مارشل نامی شہری کو اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جبکہ قتل کی واردات پر کرسچن کمیونٹی نے شدید احتجاج کیا تھا اور اس پر آرگنائزڈ کرائم یونٹ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا۔ او سی یو کی ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے آلہ قتل اور 3 پسٹل برآمد کرلیے گئے۔ ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی، آئی ٹی ایکسپرٹس، پبلک ریلیشن اور تجربہ کار افسران کی مدد سے مختصر وقت میں گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور کی کارروائیاں جاری رہیں گی کیونکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ آرگنائزڈ کرائم یونٹ لاہور پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

جواب دیں

Back to top button