ایران کا امریکی فوجیوں کو پکڑنے یا مارنے پر 30 ہزار ڈالرز انعام کا اعلان

ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کر کے حوالے کرنے والے افراد کے لیے 30 ہزار ڈالرز کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اگر یہ کارروائی کسی خاتون کی جانب سے کی گئی تو انعام دُگنا دیا جائے گا۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق امیر حاتمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی درخواستوں کے بعد یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کو گرفتار یا ہلاک کر کے ایرانی حکام کے حوالے کرنے والے شخص کو 30 ہزار ڈالرز یا 5 ارب ایرانی تومان (ایرانی ریال) دیے جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کی رہورٹس کے مطابق ایران میں امریکی زمینی فوج کی کسی باقاعدہ تعیناتی کی اطلاع نہیں ہے تاہم اپریل میں ایک امریکی طیارہ گرنے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے امریکی اہلکار ایران میں داخل ہوئے تھے۔
ایرانی فوجی سربراہ نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج کو خلیج، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس اس اہم آبی گزرگاہ کے دفاع کے لیے فورسز موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے قطر پر 3 ایرانی پائلٹس کو گرفتار کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ پائلٹ مارچ میں قطر میں موجود امریکی اڈے کے خلاف کارروائی کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔
دوسری جانب قطر نے پائلٹس کو حراست میں رکھنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اپریل میں تلاش اور امدادی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ کی دعوت دی گئی تھی تاہم تہران نے اس کا جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب تہران، قم اور مشہد میں سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے چہلم کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق موجودہ رہبر اور علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای چہلم کی تقریبات کی سربراہی کریں گے۔






