امریکہ کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر منہ کی کھانی پڑے گی: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی تنبیہ

ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان ابوالفضل شکارچی نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے اس آبی گزرگاہ میں مداخلت کی تو اسے ’منہ کی کھانی پڑے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’امریکہ کے پاس مغربی ایشیا سے انخلا کے سوا کوئی راستہ نہیں اور دعویٰ کیا کہ امریکی افواج جتنی جلد خطے سے نکلیں گی، انھیں اتنا ہی کم نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘
شکارچی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو ’عالمی طاقت‘ بھی قرار دیا اور کہا کہ تہران ’نئے عالمی نظام‘ میں امریکہ کو اس کی سابقہ حیثیت پر واپس آنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے یہ خبر بھی دی ہے کہ ’امریکی مذاکرات کاروں نے رواں ہفتے ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں ایرانی فریق کو بھی یہی مؤقف پہنچایا اور کہا کہ تہران آبی گزرگاہ کے حوالے سے شرائط عائد نہیں کر سکتا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ’امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے اور ایران کی جانب سے اسے فوری طور پر دوبارہ کھولنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔‘







