سپیشل رپورٹ

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کیا: میر رضا کمیشن

سندھ کے صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے میر رضا علی کی موت کے معاملے میں منصفانہ، آزادانہ اور شفاف انکوائری کو یقینی بنانے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کو ایک مرتبہ پھر واضح طور پر دہرایا۔

ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران ایک غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اور یہ حکومت کی ہدایت نہیں تھی کہ کمیشن کو بتایا جائے کہ اسے اپنی کارروائی کس طرح چلانی ہے اور نہ ہی یہ حکومت کی ہدایت تھی کہ خاندان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دینے میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جائے۔

ضیاالحسن لنجار جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا کیس کے کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے روبرو پیش ہوئے بعد میں کمیشن کے تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن معزز وزیر کا نوٹس کا فوری جواب دینے اور نہایت خوش اسلوبی سے کمیشن اور عوام کو حکومت کے بلا تعطل، مسلسل اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرانے پر شکر گزار ہے۔

میر رضا کے خاندان کے وکیل مسٹر جبران ناصر نے بھی کمیشن سے درخواست کی کہ خاندان کی جانب سے مسٹر لنجار کی جانب سے دیئے گئے بیان اور وضاحت پر ان کی قدردانی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، اس طرح ایڈووکیٹ جنرل اور کمیشن کے سربراہ میں اختلاف رائے حل ہوگیا۔

کمیشن نے اپنی کارروائی پیر، 14 ستمبر صبح 11 بجے دوبارہ شروع کرے گا، جس کے لیے پولیس سرجن سمیعہ سید، ایس ایچ او عدیل افضل کو مذکورہ روز حاضر ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا جائے۔

کمیشن کو ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب موصول ہو گیا ہے، جس کو غیر تسلی بخش اور مبہم قرار دیا اور ڈاکٹر اسامہ کو 15 ستمبر کو حاضر ہوکر اپنے جواب کی وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اس سے قبل صوبائی وزیر داخلہ ضیالحسن لنجار اور کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال کے درمیان مکالمہ ہوا، جسٹس عمر سیال نے انھیں مخطاب ہوکر کہا کہ آپ کے دفتر کی عزت ہے، فیملی کی وجہ سے آپ کو کورٹ میں بلایا ہے، ان کی معلومات کے مطابق کمیشن فریال تالپور کے کہنے پر بنایا گیا ہے کیونکہ فریال تالپور صاحبہ بھی ایک ماں ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی کارروائی اُس وقت رک گئی تھی جب سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے خاندان کے وکیل کے سوالات پر اعتراض کیا۔ منگل کی سماعت کے دوران کمیشن نے اس اعتراض کو کارروائی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار کو طلب کر لیا ہے تاکہ وہ واضح کریں کہ آیا متاثرہ خاندان کو کمیشن کے سامنے سوالات کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔

جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کے بہت سارے سوالات ہوتے ہیں، آپ نے کئی دفعہ کہا ہے کہ شفاف انکوائری ہو، وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بھی شفاف انکوائری کا کہا گیا ہے، جو قابلِ تعریف ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھا انھوں نے انھیں تعینات کیا لیکن اہلخانہ کا اعتماد بہت ہی کم ہے یہ بہت مشکل کام ہے کہ ان کا اعتماد بحال ہو۔

اہلخانہ کو کہا ہے کہ وکیل سوالات کرسکتا ہے ’ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کیا ہے، اس قدر کہ ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے میرے سٹاف کو کہا کہ یہ غلط ہورہا ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا رویہ تضحیک آمیز تھا۔ آپ کو بلانے کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے، آپ پلیز بتائیں، سندھ حکومت کا وہی ویژن ہے۔‘

صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے انھیں کہا کہ ’آپ بہت سینیئر جج ہیں، آپ پر اعتماد ہے۔ کیس کسی طرف جائے، حکومت ملزمان تک پہنچنا چاہتی ہے یہ کمیشن کا اختیار ہے وہ جسے چاہے سوال کرنے کی اجازت دے، ایک والد کی حیثیت سے انھیں اہلخانہ کے دکھ کا احساس ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ کمیشن جو کارروائی کرے، حکومت سندھ ان کے ساتھ ہے، وہ کمیشن کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا نہیں چاہتے، انھوں نے کمیشن سے معذرت بھی کی۔

سماعت کے دوران میر رضا علی کے خاندان کے وکیل جبران ناصر نے آگاہ کیا کہ کہا کہ بزنس پارٹنر احمد کی جانب سے کمیشن پر الزامات لگائے گئے ہیں اس کے علاوہ احمد کے وکیل نے بھی اس حوالے سے کچھ انکشافات کیے ہیں لہذا احمد کو دوبارہ طلب کیا جائے تاکہ اگر وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں تو اپنا مؤقف پیش کرسکیں۔ ’

کمیشن نے جبران ناصر سے کہا کہ اس حوالے سے باقاعدہ درخواست جمع کرائی جائے جس پر جبران ناصر نے جواب دیا کہ وہ اس حوالے سے درخواست جمع کرا دیں گے۔

جواب دیں

Back to top button