آبنائے ہرمز میں ماحولیاتی خدمات اور نقصانات کی فیس وصول کرنے کے قواعد تیار لیے: ادارۂ تحفظِ ماحولیات ایران

ایران کے ادارہ برائے تحفظِ ماحولیات نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’ماحولیاتی خدمات اور ماحولیاتی نقصانات کی فیس وصول کرنے کے ضوابط‘ تیار کر لیے گئے ہیں اور منظوری کے لیے حکومت کو بھیج دیے گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہر سال 50 ہزار سے زائد بحری جہاز اور آئل ٹینکر گزرتے ہیں جس سے خلیج فارس میں آلودگی پھیلتی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آلودگی سے ہونے والے نقصان کا ازالہ ہونا چاہیے۔
ادارۂ تحفظ ماحولیات کے مطابق جو قواعد تیار کیے گئے ہیں وہ سمندری قوانین سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی شقوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت اگر ماحولیاتی خطرات پیدا ہوتے ہیں تو ایران سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ان کی نوعیت، سامان کی مقدار، بحری ریکارڈ اور آلودگی پھیلانے کی سابقہ تاریخ کی بنیاد پر فیس وصول کی جا سکے گی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی قسم کی فیس یا محصول وصول کرنا آزادانہ جہاز رانی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود کا حصہ ہے، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا جائز ہے۔







