ٹیلی کام ایکٹ میں مجوزہ ترمیم: حقائق، غلط فہمیاں اور آگے کا راستہ

تحریر: شاہد مقصود
آئی ٹی و ٹیلی کام پروفیشنل
پاکستان کے ٹیلی کام ایکٹ میں مجوزہ ترامیم، خصوصاً ’’رائٹ آف وے سے متعلق شقوں نے حالیہ دنوں میں عوامی سطح پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ اہم قانون سازی پر عوامی مکالمہ نہ صرف صحت مند روایت ہے بلکہ جمہوری عمل کے لیے ضروری بھی ہے۔ تاہم ان ترامیم کے حوالے سے ہونے والی بحث کا بڑا حصہ مجوزہ قانون کے اصل متن کے بجائے غلط فہمیوں پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قانونی اور تکنیکی پہلوؤں پر گفتگو کے بجائے بعض حلقوں میں بحث کا رخ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور اس کی قیادت پر تنقید اور قیاس آرائیوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ ایسا طرزِ عمل نہ تو عوامی مفاد میں ہے اور نہ ہی پالیسی سازی کے عمل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
مجوزہ ترمیم کا مقصد انتہائی واضح ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ملک میں کہیں بھی اپنی مرضی سے موبائل ٹاور نصب کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔ دراصل اس ترمیم کا مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے ’’رائٹ آف وے‘‘ کے حصول کے عمل کو آسان بنانا اور ان غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے جو برسوں سے نیٹ ورک کی توسیع میں تاخیر کا سبب بن رہی ہیں۔
آج کے دور میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر سڑکوں، بجلی اور پانی جتنی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ تعلیم، صحت، بینکاری، ای کامرس، ہنگامی خدمات اور ڈیجیٹل گورننس سمیت جدید زندگی کا تقریباً ہر شعبہ تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سے وابستہ ہے۔ ڈیٹا کے استعمال میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کو مزید موبائل ٹاورز، فائبر آپٹک نیٹ ورکس اور جدید ٹیلی کام سہولتوں کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ مجوزہ ترمیم کے بعد ٹیلی کام کمپنیاں نجی رہائشی گھروں پر موبائل ٹاور نصب کر سکیں گی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
موجودہ قوانین کے تحت رہائشی املاک کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور مجوزہ ترمیم اس قانونی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کرتی۔ ٹیلی کام انفراسٹرکچر صرف انہی مقامات پر نصب کیا جا سکے گا جہاں قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ترمیم نہ تو جائیداد سے متعلق موجودہ قوانین کو ختم کرتی ہے اور نہ ہی کمپنیوں کو کسی نجی رہائشی ملکیت پر قبضے کا اختیار دیتی ہے۔
اسی طرح یہ تاثر بھی غلط ہے کہ کمرشل جائیدادوں کے مالکان اپنے حقوق یا کرائے کی آمدنی سے محروم ہو جائیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں آج کی طرح آئندہ بھی جائیداد مالکان کے ساتھ باہمی رضامندی سے تجارتی معاہدے کریں گی۔ جو کمرشل عمارتوں کے مالکان اپنی چھتیں ٹیلی کام تنصیبات کے لیے کرائے پر دیں گے، وہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ وصول کرتے رہیں گے۔ درحقیقت کئی کمرشل پراپرٹی مالکان خود ایسی تنصیبات کے خواہش مند ہوتے ہیں کیونکہ یہ مستقل آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
ترمیم میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں اور کمرشل پراپرٹی مالکان کے درمیان تنازعات عام سول عدالتوں کے بجائے ایک خصوصی ٹربیونل میں سنے جائیں۔ پاکستان میں ٹیکس، بینکاری، کسٹمز، لیبر اور مسابقتی امور کے لیے پہلے ہی خصوصی ٹربیونلز موجود ہیں جو عموماً زیادہ تیز اور تکنیکی بنیادوں پر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مجوزہ ترمیم کا سب سے اہم پہلو سرکاری اداروں اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے متعلق ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے ٹیلی کام کمپنیوں کو میونسپل اداروں، ترقیاتی اتھارٹیز، کنٹونمنٹ بورڈز، سرکاری محکموں اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے ’’رائٹ آف وے‘‘ کی منظوری حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد معاملات میں منظوری کے لیے مہینوں بلکہ برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مختلف ادارے الگ الگ طریقہ کار اور فیسیں نافذ کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات بغیر کسی واضح وجہ کے اجازت نامے روک دیے جاتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں منصوبوں کی لاگت بڑھتی ہے، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، انفراسٹرکچر کی فراہمی میں تاخیر ہوتی ہے اور بالآخر صارفین کو کمزور نیٹ ورک اور سست رفتار انٹرنیٹ کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
مجوزہ ترمیم کا مقصد ’’رائٹ آف وے‘‘ کی منظوری کے لیے ایک شفاف، واضح اور مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔ لازمی منظوری اور زیرو رائٹ آف وے چارجز سے متعلق شقوں کا اطلاق سرکاری اداروں اور نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں پر ہوگا، نہ کہ عام گھریلو مالکان یا نجی رہائشی املاک پر۔ مقصد صرف غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ ہے جبکہ قانونی تحفظات اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
یہ اصلاحات پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ کیلئے بھی ناگزیر ہیں ۔
گزشتہ موبائل ٹیکنالوجیز کے برعکس فائیو جی کے لیے زیادہ تعداد میں بیس اسٹیشنز، وسیع فائبر آپٹک نیٹ ورک اور بڑے پیمانے پر جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ ڈیجیٹل معیشتیں تسلیم کر چکی ہیں کہ مؤثر ’’رائٹ آف وے‘‘ پالیسی کے بغیر 5G کا کامیاب نفاذ ممکن نہیں۔ اگر منظوریوں کے عمل کو آسان نہ بنایا گیا تو پاکستان خطے اور دنیا کے دیگر ممالک سے پیچھے رہ سکتا ہے۔
فائیو جی کے فوائد صرف تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ تک محدود نہیں۔ اس کے ذریعے اسمارٹ سٹیز، مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، خودکار ٹرانسپورٹ، انڈسٹری فورپوائنٹ زیرو ، جدید زراعت، ڈیجیٹل صحت، فاصلاتی تعلیم اور جدید عوامی تحفظ کے نظاموں کو فروغ ملے گا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے بغیر ممکن نہیں۔
دنیا کے متعدد ممالک پہلے ہی براڈبینڈ کے فروغ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے لیے اپنے ’’رائٹ آف وے‘‘ قوانین کو جدید بنا چکے ہیں۔ پاکستان بھی اگر اپنی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب اور خدمات کے معیار کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے اسی سمت میں پیش رفت کرنا ہوگی۔
عوامی پالیسی پر تنقید ہر شہری کا حق ہے، تاہم تنقید کا مرکز قانون کی شقیں ہونی چاہئیں، نہ کہ وہ افراد جو حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہیں۔ اختلافِ رائے فطری امر ہے لیکن اس کی بنیاد حقائق، قانونی تجزیے اور تکنیکی فہم پر ہونی چاہیے، نہ کہ غلط معلومات اور قیاس آرائیوں پر۔
بدقسمتی سے بعض حلقوں نے مجوزہ ترامیم پر بحث کو قانون کے متن سے ہٹا کر وزارتِ آئی ٹی اور بالخصوص سیکریٹری آئی ٹی و ٹیلی کام ضرار ہاشم خان کی ذات تک محدود کر دیا ہے۔
ضرار ہاشم خان ایک تجربہ کار ٹیکنالوجی ماہر ہیں جنہیں پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر کام کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی، ٹیکنالوجی پالیسی، سرمایہ کاری، اختراع، ڈیجیٹل گورننس اور بڑے پیمانے کے ٹیکنالوجی منصوبوں پر کام کیا ہے۔ کسی بھی پالیسی سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم سرکاری عہدیداروں کا جائزہ ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور پالیسی کے نتائج کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی حملوں کے ذریعے۔
ذرائع ابلاغ کو مجوزہ قانون سازی کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے، حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے، ماہرین سے مشاورت کرنی چاہیے اور متوازن رپورٹنگ کے بعد نتائج اخذ کرنے چاہئیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ انتہائی تکنیکی نوعیت کا حامل ہے اور نامکمل یا غلط رپورٹنگ عوام میں غیر ضروری ابہام پیدا کر سکتی ہے۔
مجوزہ ٹیلی کام ایکٹ ترمیم کا بنیادی مقصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع کے راستے میں موجود انتظامی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ نہ تو نجی گھروں پر ٹاور لگانے کی اجازت دیتی ہے اور نہ ہی جائیداد مالکان کے کرایے کے حقوق ختم کرتی ہے۔ اس کے برعکس یہ ایک شفاف اور قابلِ پیش گوئی ’’رائٹ آف وے‘‘ نظام متعارف کرانے کی کوشش ہے جو سرمایہ کاری، 5G کے نفاذ اور ملک بھر میں بہتر ڈیجیٹل رابطہ کاری میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان جب ایک ڈیجیٹل مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے تو ضروری ہے کہ اس موضوع پر بحث حقائق، شواہد اور قانون کی اصل شقوں کی بنیاد پر کی جائے۔ ذمہ دار صحافت، مستند معلومات اور سنجیدہ عوامی مکالمہ ہی بہتر قانون سازی، مضبوط اداروں اور ایک زیادہ مربوط، مسابقتی اور ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔



