بین الاقوامی
’ہم اس تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں‘

جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا اور انھوں نے کیا کہا۔
امریکی نائب صدر نے کہا، ’ہم مسلسل صدر سے رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہو گی۔۔۔۔ شاید ایک درجن مرتبہ۔‘
’ہم ایڈمرل کوپر، مارکو، اور پیٹ اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے۔ ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔







