شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی
تحریر: غلام مصطفیٰ
یہ بات حقیقت ہے کہ اولیاءاللہ نے روح زمین پر بسنے والی ہرمخلوق کی بے لوث خدمت کی ہے۔ انسانوں کی فلاح وبہبود کےساتھ انہیں دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنے کےساتھ ساتھ انسانوں کے دلوں میں حضور اکرم ﷺ ،اہل بیت اور صحابہ کرام ؓ کی محبت کو داخل کیاہے۔ اولیاءاللہ جس زمین پر جاتے ہیں وہاں سے اندھیرے جھڑجاتے ہیں، علم وعمل کی روشنی ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ تمام پیروںاوراولیاءاللہ نے انسانوں کو اللہ سے ملانے کیلئے کام کیاہے۔ آستانوں میں بیٹھنے والے پیروں نے صرف وہاں آنے والوں کی خدمت نہیں کی بلکہ پوری دنیا میں دینی علوم کا چراغ بھی روشن کیاہے۔ حضور اکرم ﷺکی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے تمام اولیاءاللہ نے اہم فریضہ انجام دیاہے۔ہر کامل ولی اپنے مرید کو حضور اکرم ﷺ کی محبت سے سرشار کرتے ہوئے اللہ سے ملوادیتاہے۔ جبھی تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملوادیتے ہیں۔ اولیا ءاللہ، زمین پر اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہونے کےساتھ ساتھ علم کے روشن چراغ بھی ہوتے ہیں، اولیا ءاللہ سے جڑے رہنے والے لوگ منزل پالیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بزرگان دین کاوطیرہ رہاہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے۔سب اپنی مرادیں پا تے ہیں۔یہ بزرگان دین کا طریقہ رہاہے کہ وہ اپنے ہر مرید کو اللہ کی عطا سے ضرور نوازتے ہیں۔شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی بھی اللہ کے ان خاص بندوں میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی کیلئے پسند فرمایا۔ آپ وقت کے ایک کامل ولی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے فیض وبرکات جاری ہیں۔ شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی کے خلفاکرام کی تعداد کم وبیش 70 کے لگ بھگ ہے۔ سندھ میں شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی کے خلیفہ پیر عبدالمجید صدیقی نقشبندی ہیں،جواپنے آستانہ عالیہ صدیقیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جہاں ہر اتوار کودینی محفل کاانعقاد کیاجاتاہے۔ راقم کا انکےساتھ گہرا تعلق ہے اور پیر عبدالمجید صدیقی نقشبندی راقم کے پیر صاحب بھی ہیں اورپیر عبدالمجید صدیقی نقشبندی ہی کی وجہ سے راقم کی نسبت پیر علاؤ الدین صدیقی سے قائم ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ خلیفہ و پیر عبدالمجید صدیقی نقشبندی کو لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرمائے ۔آمین۔
شیخ العالم پیر محمد علاؤ الدین صدیقی راقم الحروف کے پیروشد ہیں، اس لئے آپکےساتھ ایک روحانی تعلق بھی قائم ہے۔ ایک ایسا عزت واحترام اور عقیدت کا رشتہ جسے کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ میرے پیر ومرشد شیخ العالم محمد علائوالدین صدیقی در حقیقت اپنے قلبی تعلق کی بنا پر نقشبندی ہیں۔ جولوگ آپ کےساتھ رہے ہیں اور وقت گزار چکے ہیں وہ اچھی طرح واقف ہیں کہ آپ کے معمولات زندگی اور معاشرتی رویوں سے نقشبندیت آشکار اور نقشبندی اکابرین سے آپ کی والہانہ محبت نمایاں تھی ۔ مجددالف ثانی آپ کے محبوب اکابر میں سے ایک ہیں جب بھی ان کا ذکر آتا تو آپ کے پورے جسم پر مسرت جیسی جنبش سی چھا جاتی جس سے ظاہر ہوتا کہ مجد د الف ثانی سے آپ کی محبت وعقیدت واحترام کے جذبات کتنے زیادہ ہیں ۔ پیر ومرشد شیخ العالم محمد علائوالدین صدیقی یکم جنوری1938 کو نیریاں شریف آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ آپ غوث الزماں خواجہ غلام محی الدین غزنوی بن ملک محمد اکبر خان کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ آپ کی نسبت نقشبندیہ مجددیہ ہے جو آپ کے والد اور شیخ خواجہ غلام محی الدین غزنوی سے آپ کو ملی ۔ آپ افغانستان کے معزز پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔آپ اپنے نام کےساتھ” صدیقی“ سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی روحانی نسبت سے لکھاکرتے تھے۔
شیخ العالم محمد علائوالدین صدیقی نے ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والد و پیرو مرشد شیخ خواجہ غلام محی الدین غزنوی سے حاصل کی لہٰذا ابتدا ہی سے آپ کو مذہبی اور ایک بابرکت ماحول میسر آیا ۔ آپ نے جامعہ حقائق العلوم حضرو۔ جامعہ رضویہ فیصل آباد میں استاد محترم مولانا سردار احمد سے اور دورہ تفسیر کی تکمیل استاد محترم عبد الغفور ہزاروی سے مکمل کی۔ طریقت کے لحاظ سے آپ کا سلسلہ نقشبندیہ کی شاخ نقشبندیہ غزنویہ قاسمیہ مجددیہ سے ہوتاہوا نقشبندیہ صدیقیہ غزنویہ قاسمیہ مجددیہ تک جاپہنچتاہے جبکہ آپکے پاس خلافت شیخ عبدالقادر جیلانی سے سلسلہ قادریہ میں اجازت اور نظام الدین اولیاءسے چشتی سلسلہ بھی ہے ۔ آپ کے والد محترم غوث الزماں خواجہ غلام محی الدین غزنوی بن ملک محمد اکبر خان کے باطنی کمالات اور کشف و کرامات لاتعداد ہیں۔ یہ پیر ومرشد شیخ العالم محمد علائوالدین صدیقی کی کرامت ہی ہے کہ آپ کی روحانی و اصلاحی خدمات سے لاکھوں افراد نے رشد و ہدایت حاصل کی، اسی طرح آپکی اولاد بھی ممتاز عالم دین صاحب ارشاد وطریقت ہے۔آپ کو سب کے باہمی اتحاد واتفاق سے مسند نشینی کاحق دار قراردیتے ہوئے مسند نشینی پر فائز کیا گیا اور اس طرح پیر علائو الدین صدیقی علم و عرفان اور طریقت و شریعت میں اپنے والد کے صحیح وارث قرار پائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو گوناگوں صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا آپ ایک اجل عالم، فاضل محقق صحیح طریقت ،خوش بیان واعظ و صلح،بلند پایا مبلغ اور مناظر اسلام تھے۔
پیر علائوالدین صدیقی نے اپنے والد کے روحانی مشن کو درجہ کمال تک پہنچاتے ہوئے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک میں جاکر اہل مغرب کو تصوف کی حقیقی تعلیمات و افکار سے متعارف کروایا۔آپ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کیلئے متعدد دعوتی و تبلیغی دورے بھی فرمائے یورپی ممالک میں مسلمانوں کی اصلاح اور غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کرنے کیلئے آپ نے برمنگھم میں نقشبند یہ ٹرسٹ قائم کیا۔ یوں سمجھ لیں کہ آ پ نے یورپ میں پہلی انٹرنیشنل نقشبندی خانقاہ قائم کرکے اسلام کی اشاعت کیلئے ایک بنیاد فراہم کی۔جس کے ذریعے یورپ میں اردو، انگریزی لٹریچر کی اشاعت کے علاوہ مساجد،مدارس، مکاتب اور حلقہ جائے درس قرآن و سنت، در وی تصوف بالخصوص درس مثنوی مولانا روم اور مجالس ذکر و محافل حمد ونعت کا انعقاد کیاجاتاہے۔ آپ نے مغرب زدہ مسلمان نو جوانوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا۔ آپ نے اپنی انتھک کوششوں سے خانقاہ نیریاں شریف کو تصوف کی ایک مربوط و منظم اورعالمگیر تحریک میں تبدیل کردیا۔ برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مرکز رشد و ہدایت کی تعمیر اور خواتین کیلئے برطانیہ میں مخصوص دو کالجز کا قیام آپ کا عظیم کارنامہ ہے۔اسلامی تعلیمات کے فروغ سے متعلق آپ کی خدمات یہیں ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ آپ نے پاکستان میں اشاعت علم و حکمت کیلئے نیریاں شریف میں بھی محی الدین اسلامی یونیورسٹی قائم کی۔ جو اسلامی وعصری علوم وفنون کے علاوہ تعمیر میں بھی قدیم وجدید کا حسین امتزاج رکھتی ہے۔ پیر علائو الدین صدیقی کے عصر حاضر کے تقاضوں سے باخبر ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ نے برطانیہ میںالنور انٹر نیشنل ٹی وی چینل کاآغاز کیا اورآزاد کشمیر میں محی الدین میڈیکل کالج میرپور کا قیام عمل میں لایا۔ ان جدید اداروں کے قیام کا مقصد بھی رحمت العالمین ﷺ کے عالمگیر پیغام کو عالم انسانیت تک پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے صوفیا کا طریقہ ابلاغ اختیار کیا۔ جس کی مثال آپ کا درس مثنوی ہے درس مثنوی سے مراد یہ ہے کہ آپ لاتعداد مذہبی و تاریخی واقعات کو بیان کیا کرتے تاکہ عام آدمی کو اسلامی تعلیمات سمجھنے میں آسانی ہو۔
تاریخ تصوف میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں کہ جہاں پہلا قدم ہی عظمت کا نشان بن جائے۔ خواجہ غلام محی الدین غزنوی ہی کی محنت آپ کی حیات ظاہرہ میں ہی ثمر بار ہوگئی تھی۔ نیریاں شریف کے جنگل نما خطے میں جو شجر حسنات آپ کی صورت میں کاشت کیا گیاتھا وہ تاریخ کاسنہری شجر بن کر دنیا کے سامنے آیا اور پھر آپ کے اس شجر کی لہلہاتی شاخوں سے خوشبو اور بہار کے موتی جڑنے شروع ہوئے جو بھی آج بھی جاری ہے ۔ آپ کا یہ خوش قسمت سلسلہ پوری آب وتاب سے پھلتا اور پھولتارہا۔
آپ کے والد محترم خواجہ غلام محی الدین غزنوی نے نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی کو تا بعدار بنایا بلکہ اپنی نسل میں بھی سدا بہار رہنے والے ایسے جوہر نایاب پیدا کئے جو رہتی دنیا تک اپنی بہترین تربیت اوراسلامی تعلیمات و دیگر علوم اور نیکیوں کے ذریعے نہ صرف تنہابلکہ اجتماعی سطح پر اسلامی تعلیمات کی مہک کو نہ صرف گردو نواح تک بلکہ پوری دنیا کو مطہرت فرما تے رہیں گے۔جب آپ کو مسند نشینی سے سرفراز کیا گیا تو آپکے کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی اور سب کی نظریں آپ پر ہی تھیں کیونکہ آپ ہی اس خاندان کی روحانی وسعت کی حفاظت کےساتھ ساتھ معتقدین و متوسلین کو ایک ساتھ پروئے رکھنے کی ذمہ داری بھی آپ ہی پر تھی اور پھر خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ ذمہ داری نبھانے کا حوصلہ اورسلیقہ بھی عطا کیا تھا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ یہ خاص طور پر اللہ کی عطا اور نیک ہستیوں کی نگاہ کرم کانتیجہ ہے۔ یہ آپ کی کاوشوں اور محنت کا ہی ثمر ہے کہ لاکھوں انسان آپ کی بنائی ہوئی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے پیشوں میں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں،جہاں وہ انسانوں کی خدمت کررہے ہیں وہیں ان کی یہ خدمات اپنی اور اپنے گھر والوں کیلئے روزی روٹی کا سبب بھی بن رہی ہے۔ یہ کارنامے ہائے صرف انہی لوگوںکے حصے میں آتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان مقاصد کیلئے چن رکھا ہے اور بلاشبہ دین اسلام اور انسانیت کی خدمت کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے بہت قریب ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انکی دعاؤں اوربصیرت سے مامور نگاہوں میں بھی ایسی تاسیر ہوتی ہے کہ اگرکوئی انسان انہیں اپنے ہوش وحواس میں مخلصی کے ساتھ دیکھے تو ان بزرگ ہستیوں کے دیکھتے ہی اللہ یاد آجاتاہے۔ ان لوگوں کے چہروں سے نور واضح ہوتاہے،یہ سب کچھ ایسے ہی حاصل نہیں ہوجاتابلکہ اس کیلئے ایسی ایسی قربانیاں دینا پڑتی ہے جس کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا،یہ ایک ایسی عظیم راہ ہے جس پرچلنے والے دنیا میں اپنی علیحدہ ہی شناخت رکھتے ہیں، وہ دنیا میں بڑی شان سے جیتے ہیں اور جب دنیا سے رخصت ہوتے تب بھی بڑی شان سے جاتے ہیں اور یہ تمام علامات صرف اللہ کے ولیوں میں ہی پائی جاتی ہیں اور اللہ کے ولی کبھی کسی کونقصان نہیں پہنچاتے،یہ تو صرف نفع پہنچانے کیلئے دنیا میںآتے ہیں اور اپنا کام کرکے چلے جاتے ہیں لیکن ان زندگی کے گزرے لمحات، افکار، طریقے کار اور بیانات اور انکی ہدایات بعد میں آنے والے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں جوانہیں سیدھی راہ پر گامزن کرنے کا سبب بنتی ہیں،جس طرح اللہ والے ہم سے بے لوث محبت کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی اللہ والوں کے ساتھ بے لوث عقیدت ومحبت کرنی چاہیے۔
آپ کو اپنے والدکی نسبت کی سے جو فیض حاصل ہوا وہ آج بھی جاری وساری ہے۔ جس طرح سے مروجہ علوم کی تکمیل کے باوجود علم کا متلاشی کبھی سیر نہیں ہوتا وہ ہمیشہ علوم کی تلاش میں ہی لگارہتا ہے۔ لہٰذا آپ کو قرآن وحدیث کے علاوہ ایک ایسے استاد کی تلاش تھی جو باقی علوم تک بھی رسائی رکھتاہو۔ ایسے استاد کی تلاش جو بحر الحقائق ہو اور متلاشیان علم کو سیراب کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔سب جانتے ہیں کہ علم کے متلاشی دنیا کے کونے کونے تک سفر کرتے ہیں۔ آپ کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ آپ جب قرآن وحدیث سناتے تو آپ کا یہ با اعتماد لب لہجہ و استخراج مسائل کی سطوت اور سامعین کو اپنی گرفت وسحر میں لینے کی قوت ایسی تھی کہ اگر ترجمہ قرآن پڑھ رہے ہوتے تو لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف کی حرمت کا احساس اور خاص خیال رکھتے اور پھر قرآن وحدیث کے حرف بہ حرف سے عظمت رسالت ﷺ کواس طرح بیان فرماتے کہ سننے والے قرآن وحدیث کی سچائی اور حقانیت کو اپنے دل میں محسوس کرتے یہی وجہ تھی کہ قرآن وحدیث پڑھتے یا سناتے وقت آپ کی زبان سے نکلے ہر جملے سننے پر اثر کرتے ۔ یہ بھی عزت واحترا م اور عقیدت کا ایک ایسا مقام ہے جو سب کو نصیب نہیں ہوتا۔
آپ کے اساتذہ آپ سے مطمئن تھے اور جان چکے تھے کہ آپ علمی منزل و مراد کے بہت قریب آچکے ہیں اور کیونکہ اساتذہ عموماً ان ہی طلباءسے مطمئن ہوتے ہیں جو محنتی، باادب، سوال پوچھنے والے اور اپنی غلطیوں سے سیکھنے والے ہوں ۔ اساتذہ چاہتے ہیں کہ انکے شاگرد علم حاصل کریں، تعمیری سوچ اپنائیں اور عملی زندگی میں کامیاب ہوں اور اساتذہ ہمیشہ اپنے طالب علموں کی کامیابی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جب آخر دستار فضیلت سجائی گئی تو وہ در حقیقت د ستار عظمت بھی تھی۔تشکیل علم کے بعد نیریاں شریف تشریف لائے تو آپ کے والد گرامی جو رفعت علم چاہتے تھے وہ آپ حاصل ہو چکے تھے ۔ اب آپ ایک ایسے جوان کی طرح سامنے آئے کہ جو تر و پیج خیر کا عزم لئے ہوئے تھا اور اس عزم میں صلاحیت بھی نمایاں تھی کیونکہ اب آپ علم قرب کی منزلوں سے آشنا ہوچکے تھے لیکن ابھی مزید روحانیت کے کئی راز پوشیدہ تھے اور منزلیں باقی تھیں،جنہیں حاصل کرنے کیلئے آپ نے بہت سخت محنت کی اور کامیابی حاصل کی۔جس طرح حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ”خلافت کیلئے تین شرائط ہیں علم، عمل اور اخلاص اور تینوں شرائط پر آپ مکمل پورا اترتے تھے، آپ ان شرائط پر دنیا سے پردہ فرمانے تک عمل پیرا رہے ۔
آپ بلند عزم کے ساتھ ہر مشکل سے ٹکرانے کا حوصلہ لیکر میدان تبلیغ میں اترے ۔ آپ نے کشمیر کی وادی کو تو مرکز ہونے کا شرف بخشا ہی تھا لیکن اپنے اس مشن کو آگے بڑھانے اور دنیا بھر میں پھیلانے کیلئے 1966 میں لندن کی سرزمین کو دین اسلام کی تعلیمات سے روشنا س کرانے کیلئے منتخب کیا۔ آپ کی تشریف آواری کے بعد لندن میں مسجدیں تعمیر ہونے لگیں،دینی اجتماع منعقد ہونے لگے تبلیغی ضرورت کے تحت مبلغین و واعظین کی ایک کثیر تعداد برطانیہ کو مسکن بنانے لگی۔ کیونکہ آپ کو رہنمائی کا سلیقہ حاصل تھا اور حالات کے تقاضوں سے بھی باخبر تھے لہٰذا آپ کو بہت جلد پذیرائی حاصل ہوگئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شہر شہر اجتماع ہونے لگے اور ایک مربوط سلسلہ رشد قائم ہو گیا ایک مضبوط حلقہ اس مشن کی ترویج میں ہمراہ ہوتا گیا اور برطانیہ کے قریہ قریہ سے خوش آمدی دعوت نامے موصول ہونے لگے۔لیکن اسی دوران آپ کو یہ خبر موصول ہوئی کہ آپ کے والد حضرت خواجہ غلام محی الدین غزنوی کی طبیعت بہت ناساز ہے اور پھر جب اطلاعات تشویش ناک حدوں کو چھونے لگیں تو آپ اگست 1974ءکو نیریاں شریف واپس آگئے۔ آپ کے والد گرامی جتنے روز بھی ہسپتال میں قیام پذیر رہے آپ نے اپنے والد گرامی اور مرشد کریم کے پہلو میں رہتے ہوئے ان کی دن رات خود خدمت کی ۔لیکن جب تقدیر کافیصلہ نافذ ہوجائے تو پھر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔چنانچ آپکے والد گرامی کے پردہ فرمانے کے بعد سب کے اتفاق رائے سے آپ کو مسند نشینی نیریاں شریف مقرر کر دیا گیا،اس طرح ایک خانقاہ کی سر براہی بھی آپ کو حاصل ہوگئی۔ جبکہ مسند کے قیام کے مقاصد و فرائض آپ پہلے سے ہی ادا کر رہے تھے۔بہرحال حضرت پیر علائو الدین صدیقی مدظلہ 1975ءسے نیریاں شریف کے حلقہ احباب کے صدر نشین بنے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آپ کا تبلیغی ولولہ پہلے سے فزوں ہوچکاتھا۔ آپ کی شخصیت سے عام آدمی آگاہ تھا اسکے بعد آپ نے نیریاں شریف کو ظاہری طور پر ایک مستند بنایا اور یہاں سے آپ کی روحانی برکات کی فراوانی شروع ہوئی ۔کسی کو بھی نیک ارادوں کے آگے بند نہیں باندھنے چاہئیں کیونکہ نیکی ایک قوت ہے جو خود راستہ بنالیتی ہے چنانچہ ایساہی ہوا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی تعمیرکیلئے محنت کے علاوہ دعابھی کار خیرثابت ہوتی ہے جو وسیلوں کا سبب بنتی ہیں۔ صرف دو سال کی عملی جدو جہد کے نتیجے محی الدین اسلامی یو نیورسٹی نیریاں شریف کی صورت میں سب کے سامنے آچکی تھی۔یہ ایسی حقیقت ہے جو بہت سے لوگوں کیلئے باعث حیرت ہے ۔ جسے دیکھنے کے بعد اس کام کو ناممکن کہنے والے بھی دم بخود ہوجاتے ہیں۔محی الدین اسلامی یونیورسٹی کی تکمیل کے بعد ایک اہم مراحلہ وہاں اساتذہ کی فراہمی کا تھا دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو اس بلند پہاڑی تک پہنچنے کیلئے کئی قسم کی مشکلات کاسامنا کرنا پڑتاتھا۔
لیکن کہتے ہیں کہ جب نیت صاف اور نیک ہو تو منزل آسان ہوجاتی ہے اور پھر ایسا ہی ہوا یونیورسٹی کی تکمیل کے بعد باقی مراحل بھی طے ہوناشروع ہوگئے۔قبل ازیں غالبا ً یہ 1980 کا دور کاتھا جب آپ نے ایک خواب دیکھا کہ دربار کے سامنے غیر ہموار پہاڑی پر ایک عمارت ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی جو دیدہ زیب بھی تھی۔ اب آپ خواب کی تعبیر کی طرف بڑھنے لگے۔اس ضمن میں آپ نے زمین کا جائزہ لیا اور وسائل پر نظر بھی ڈالی اسکے بعد احباب سے مشورہ کیا اور چند سالوں کی عملی جدوجہد کے بعد یہ خواب حقیقت میں بدل گیا۔ پھر آپ نے1988 میں اللہ کا نام لےکر عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جو آپکے ذہنی نقشے کے مطابق تھا کیونکہ آپ خود ہی نقشہ نویس بھی تھے خود ہی ماہر تعمیرات بھی لہٰذا خیال صورت مجسم میں ڈھلنے لگا اور دیکھتے ہیں دیکھتے پہاڑ کی بلند چوٹی نے ایک خوبصورت عمارت کا روپ دھار لیا۔ اس عمارت کی تکمیل بھی منزل پہ منزل تعمیر ہوتی گئی جہاں کشادہ کمرے اور بڑے برآمدے یوں تعمیر ہوگئے کہ جیسے کسی ماہر تعمیرات کی زیرنگرانی تعمیرات کی جاتی ہیں۔ بہرحال عمارت تیار ہو گئی جو کشمیر کے بیشتر تعلیمی اداروں سے منفرد ہے۔ یونیورسٹی میں جدید یونیورسٹی کے خدو خال نمایاں ہیں۔اس یونیورسٹی میں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کےساتھ ساتھ ان کی کفالت بھی کی جاتی ہے اوران کیلئے بہترین رہائش کا وسیلہ بھی موجود ہے۔یہ یونیورسٹی اپنی طرز تعمیر اور محل وقوع کے لحاظ سے بھی عظیم دینی و دیناوی درسگاہ مانی جاتی ہے۔
یونیورسٹی کے قیام کے بعد آپ نے ایک میڈیکل کالج قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مرحلہ بھی دشوار تھاکیونکہ اس کیلئے ایسی جگہ درکار تھی جو آمد و رفت کیلئے زیادہ پیچیدہ نہ ہو لہٰذا اس مقصد کیلئے میر پور کاانتخاب کیا گیا۔ کیونکہ میرپور ایک جدید شہر ہے وہاں کی آبادی کابرطانیہ سے نہایت گہرا تعلق بھی ہے۔ اس لئے علمی پیشرفت اور خصوصا جدید تعلیم کی طرف توجہ زیادہ ہے۔اس سلسلے میں میر پور سے متصل زمین خریدلی گئی جو میڈیکل کالج کی تمام ضرورتوں کی کفالت کر سکے۔ جس وقت وہاں میڈیکل کالج تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اس وقت تک وادی کشمیر میں کوئی میڈیکل کالج موجود نہیں تھا۔پھر میڈیکل کالج کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا۔ عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دیدہ زیب عمارت تیار ہوگئی جو جملہ ضرورتوں کیلئے کفالت کرنے کے قابل تھی‘ اساتذہ کی دستیابی مشکل کام تھا مگر یہ مرحلہ بھی آسانی سے طے ہوگیا کیونکہ مقصدذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی مفادات اور تعلیم کا حصول کا تھا۔اس لئے ہر مرحلہ آسان ہوتا گیا۔بعدازاں الحمد للہ داخلے ہوئے اور تدریسی عمل شروع ہوگیا۔ یہ بھی پیر علاؤ الدین صدیقی کا ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے ذریعے اب تک لاکھوں افراد مستفیض ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ یہ بھی صدقہ جاریہ والا کا م ہے۔
جدید تقاضوں سے ہم آہنگ النور ٹی وی چینل کے قیام کاذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔لہٰذا اسکے بعد آپ نے جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تیزی سے پھیلاؤ کو بھانپتے ہوئے عصر جدید کے تقاضے کے پیش نظراسلام کی تبلیغ واشاعت اور تبلیغی مقصد کیلئے ایک جدید الیکٹرونک پلٹ فارم جسے ہم النور ٹیلی ویژن کے نام سے جانتے ہیں کی بنیاد رکھی ۔ النور ٹی وی آج کے دور کا مضبوط میڈیا نیٹ ورک ہے جس کی آواز ایک وقت میںپوری دنیا کو محیط ہو جاتی ہے۔ بہرحال جلد ہی النور ٹی وی کا برمنگھم سے اجرا ہوگیا، النور ٹی وی کی نشریات کا دائرہ پھیلتا چلا گیا اور بہت جلد ایک سوستر ممالک کے سامعین و ناظرین النور ٹی وی سے نور علم و حکمت حاصل کرنے لگے۔ دینی پروگراموں کا تنوع اس تیزی سے بڑھا کہ ناظرین کی دلچسپی کامرکز بن گیا۔ آپ کی زیرنگرانی النور ٹی وی کا فیضان گھر گھر اتر نے لگا۔آپکے دیئے درس در حقیقت روحانیت کا ایک ایسا مستند پیغام ثابت ہوئے جس نے مشرق و مغرب کو متاثر کیا ہے۔ کیونکہ آپ کا انداز بیان ہی فکر آخرت سے منور ہے۔ آپ دنیا میں اسلامی ترویج کی ایک ایسی توانہ آواز تھے جنہیں صدیوں یادرکھاجائے گا۔آپ کا علمی وروحانی فیض ہمیشہ ہمارے دلوں کو اسلامی تعلیمات اور حضور اکرم ﷺ سے محبت وعقیدت سے سرفراز کرتارہے گا۔
بلاشبہ پیر علاؤ الدین صدیقی کی پیشانی مبارک پر ایسا نور تھا جس سے ثابت ہوتاتھا کہ آپ پوری دنیا میں اسلام کی ترویج کیلئے عظیم کارنامے انجام دیں گے۔حضور شیخ العالم نے نور ٹی وی کی صورت میں جو کام شروع کیا وہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں۔یوں سمجھ لیں آپکی شخصیت علمائے اہل سنت کے سامنے ایک چمکتی ہوئی امید تھی۔نور ٹی وی چینل کی صورت یہ ایک ایسا منفرد کارنامہ ہے جو آپ سے پہلے کوئی پیر یا مولانا انجام نہیں دے سکا۔ یہ عظیم کارنامہ جس کی بدولت لاکھوں کروڑوں افراد اللہ کے دین کا پیغام سنتے اور دیکھتے ہیں، آپکی آرزو بے حدبلند اور آپکی تقریر اتنی دلکش اور خوبصورت ہواکرتی تھی جیسے روح کی غذا ہو۔ ایسی طاقتور اور مستند آواز جوکارواں کی حقیقی رہنمائی کرسکے۔ آپ نے اپنے عظیم روحانی و مذہبی کردار و عمل سے خطہ کشمیر پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔آپکے ہاتھوں لاکھوں لوگوں نے بیعت کی ہے، آپ نے مسند سجادگی پر بیٹھنے کے بعد حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور بین الاقوامی سطح پر امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات پاکستان وآزادکشمیر کے روحانی پیشواؤں،بزرگان دین،اسلام اور جید علماءکرام و مفتیان عظام کو اپنے حجروں درباروں خانقاہوں اور مساجد تک ہی محدود دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کا صحیح تصورپیش کرکے ذرائع ابلاغ کے ذریعے تبلیغ اشاعت و دین کا جدید طریقہ رائج کر کے لوگوں کو قدامت پرستی کے خول سے باہر نکال کر انہیں سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید علوم سے بھی بہرہ مند کر یں گے تاکہ انہیں ایک کامیاب قوم بنایا جاسکے جو ترقی کی حقیقی منازل طے کر کے معاشی و اقتصادی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو ۔ چنانچہ آپ نے اس عظیم فریضہ کی انجام دہی کا بیڑا اٹھایا اور اپنے عمل سے ثابت کردیا اگرنیت نیک اور صاف ہوتو منزل چاہیے جتنی بھی دور کیوں نہ ہو اسے حاصل کیاجاسکتاہے۔
پیر علاؤ الدین صدیقی نے ٹی وی چینل کے ذریعے صرف اسلامی تعلیمات کو ہی عام نہیں کیا بلکہ اسلام، پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کیلئے ایک موثر پلیٹ فارم بھی مہیا کیا جو برطانیہ میں مقیم دس لاکھ سے زائد پاکستانیوں کیلئے راہ ہدایت بھی ہے۔ اسی طرح جب 8اکتوبر 2005ءکو آزاد کشمیر میں زلزلہ آیا تو زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئے حضرت پیر علاؤ الدین صدیقی نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ۔پاکستان اور بیرونی ممالک میں کئی مساجد مدارس کی تعمیر سے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا سلسلہ شروع کیا،جبکہ اسلام فوبیاکےخلاف کھل مغربی دنیا کو سمجھایا ۔اسلام کے نام پر کی جانیوالی دہشت گردی کیخلاف آپ بہت مضطرب رہتے اور اپنے خطبات میں فرماتے کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، دہشت گردی سے اسکا کوئی تعلق نہیں،جو لوگ اسلام کے نام پر مسلمانوں کا خون ناحق بہانے کیلئے خود کش دھماکے اور دیگر تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں وہ درحقیقت اسلام کے دشمن ہیں۔ انہوں نے تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفیﷺ کے جشن ولادت کے موقع پر برمنگھم میں برطانوی حکومت کی اجازت سے جشن عید میلاد النبیﷺ کا جلوس نکالا جس میںعلماءکرام ، غلامان مصطفی ﷺ مسلمانوں کے دیگر مذاہب کے پیشواؤں و ممبران برٹش پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔ یہ برطانیہ میں نبی آخر الزمانﷺ کی ولادت کی خوشیوں کا تاریخ ساز اظہار تھا اور اس سے دیگر مذاہب کے لوگوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے اور انہوں نے یہ محسوس کیا کہ مسلمان اپنے آقا حضور نبی کریمﷺ سے کس قدر والہانہ عقیدت کے جذبات رکھتے ہیں،اس جلوس کی کامیابی سے برطانیہ میں مقیم پیران عظام و علماءکرام نے پیر علاؤ الدین صدیقی کی عظمت کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھاجو بوجوہ ان سے دور رہتے تھے وہ بھی انکی خدمات کے معترف ہو گئے۔ پیر علاؤ الدین صدیقی کے ہاتھ پر ہزاروں غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپ اردو انگریزی، فارسی، عربی سمیت دیگر زبانوں میں مہارت رکھنے کی وجہ سے اسلام کا پیغام غیروں تک پہنچانے کا سلیقہ جانتے تھے،آپ ایک بلند پایہ خطیب اور مفسرقرآن و شیخ الحدیث تھے۔ آپ نے بیرون ملک کئی ممالک کے دورے کر کے تبلیغ اسلام اورمسلمانوں کے قلوب و اذہان کی تطہیر کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔یوں سمجھ لیں اگر پاکستان میں ایک اور حضور شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی پیدا ہوجاتے تو ملک کا چہرہ ہی بدل جاتا۔ اللہ تعالیٰ حضور شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی کی دینی اور سماجی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے فیض وبرکات انکے مریدوں اور چاہنے والوں پر ہمیشہ جاری وساری رکھے۔ اللہ پاک حضور شیخ العالم پیر علاؤ الدین صدیقی کے درجات بلند فرمائے۔ آمین





