پاکستان

اسلام آباد کو مستقبل میں کابل سے اچھائی کی کوئی امید نہیں

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کے حوالے سے ہر طرح کی اُمید ختم کر دی ہے اور اسلام آباد کو مستقبل میں بھی کابل کی جانب سے اچھائی کی کوئی امید نہیں۔

 وزیر دفاع نے کہا کہ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو انھوں نے خود انھیں خوش آمدید کہا تھا کیونکہ اُس وقت تک اچھائی کی اُمید رکھنی چاہیے جب تک کچھ بُرا نہ ہو۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے کئی مرتبہ دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر افغان طالبان سے مہذب انداز بات چیت کرنے کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی لیکن اب پاکستان نے افغان طالبان کی باتوں کو سنجیدہ لینا یا اُن پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی افواج کی پر خوست میں فضائی حملے کے الزام پر پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک ڈسپلن فوج اور ’ہم کبھی بھی سویلینز یا عام شہریوں پر حملہ نہیں کرتے ہیں۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اگر افغاانستان میں کارروائی کرے گا تو واشگاف انداز میں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک ترکیہ، ایران، سعودی عرب، چین اور قطر سب یہی چاہتے ہیں کہ اس خطے اور پاکستان میں امن ہو جس کا فائدہ اُن ممالک کو بھی ہو گا اور پاکستان اسی وجہ سے افغانستان کو فوری جواب نہیں دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کہا تھا کہ اگر کسی دہشت گرد حملے میں افغانستان کا ربط نکلا تو پاکستان فوری جوابی کارروائی کرے گا۔ حالیہ ماہ کے دوران پاکستان میں تین خودکش حملے ہوئے ہیں اور حکومت کے بقول ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ ’افغان طالبان کس شریعت، مذہب یا اخلاقیات کی بات کرتے ہیں، دنیا کے کس معاشرے میں یہ ہوتا ہے کہ جس سرزمین پر آپ پلے بڑھے ہوں وہیں آپ آگ لگائیں اور خون ریزی کریں۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان اس وقت سب سے زیادہ نقصان خود افغانستان کو پہنچا رہے ہیں۔

اُن کے بقول جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا ہمارے ہمسائے ضرور مداخلت کریں گے کیونکہ زیادہ عرصے تک اس طرح نہیں چل سکتا۔

انھوں نے واضح کیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہتے ہیں تو افغان طالبان تنہا رہ جائیں گے اور تنہائی کے بعد آخری منزل یہ ہے کہ ان کی حکومت گر جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button