پاکستان

پاکستان، اسلام آباد اور کابل کے درمیان تہران کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتا ہے، دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہےکہ پاکستان، ایران کی جانب سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس سے گریز نہیں کرے گا۔

طاہر حسین اندرا بی نے ڈان کے استفسار پر، جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا تہران اسلام آباد اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کے لیےعلاقائی اجلاس بلانے کے لیے کوشاں ہے، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران ایک برادر دوست ملک ہے۔

پاکستان ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے پُرامن حل کے حق میں رہا ہے اور ہم اپنے برادر ملک ایران کی ثالثی کی پیشکش کی قدر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران اہم کردار ادا کر سکتا ہے، ہم ایران کے کسی بھی ثالثی کردار سے گریز نہیں کریں گے، ثالثی ہمیشہ قابلِ قبول ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر ثالثی اس ملک یا فریق کو ناگوار گزرتی ہے جس کا قانونی یا سیاسی کیس کمزور ہو، افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کا کیس بہت مضبوط ہے، لہٰذا ظاہر ہے ہم ثالثی سے گریز نہیں کریں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں 11 اکتوبر کی رات گئے شروع ہوئی تھیں اور اگلی صبح تک جاری رہیں۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق کابل کی جارحیت کے جواب میں 23 پاکستانی فوجی شہید جبکہ 200 طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گرد مارے گئے۔

افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یہ حملہ ’جوابی کارروائی‘ کے طور پر کیا اور الزام لگایا کہ اسلام آباد نے ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزری کرتے ہوئے حملے کیے تھے جبکہ اسلام آباد نے ان حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، البتہ یہ مؤقف اپنایا کہ کابل کو ’اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان کی میزبانی بند کرنی چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button