پاکستان میں جائیدادوں کے کرایہ جات کی وصولی کا نیا نظام نافذ
لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان میں جائیدادوں کے کرایہ جات کی وصولی کے نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔ آفس آف ایڈمنسٹریٹر جے اینڈ کے اسٹیٹ پراپرٹی اِن پاکستان اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے درمیان 18 مارچ 2026 کو ایک اہم معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت کرایہ وصولی کے تمام طریقہ کار کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ وفاقی حکومت کے کیش لیس اکانومی اور سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے وژن کے عین مطابق ہے، جبکہ اس اقدام کے ساتھ ہی وزارتِ امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران ملک کی پہلی وفاقی وزارت بن گئی ہے جس نے PITB کے اشتراک سے جامع ڈیجیٹل رینٹ کلیکشن سسٹم متعارف کروایا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت کرایہ دار اب محفوظ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ادائیگیاں کر سکیں گے، جس سے نہ صرف رئیل ٹائم ٹرانزیکشنز ممکن ہوں گی بلکہ کرایہ جات کی وصولی میں شفافیت، سہولت اور مانیٹرنگ کا مؤثر نظام بھی قائم ہو سکے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس ڈیجیٹلائزیشن سے تاخیر، مالی بے ضابطگیوں اور لیکیجز میں نمایاں کمی آئے گی جبکہ ریونیو کی نگرانی اور ڈیفالٹرز کے خلاف کارروائی کو بھی مؤثر بنایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کرایہ وصولی کے پورے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت وزارت کی گڈ گورننس، شفافیت اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، جو قومی ترجیحات کے مطابق ایک کیش لیس اور شفاف معیشت کے قیام کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔







