کھیل

بھارت کی شکست پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ

بھارت کی جنوبی افریقا سے شکست پر سوشل میڈیا ہر ہنگامہ برپا ہو گیا، شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے میں اتوار کو جنوبی افریقا نے دفاعی چیمپئن بھارت کو 76 رنز سے شکست دے کر عالمی کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا۔

جنوبی افریقا کے کپتان ایڈن مارکم کا پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ درست ثابت ہوا، پروٹیز نے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز کا بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔

تجربے کار بلے باز ڈیوڈ ملر نے جارحانہ انداز میں 35 گیندوں پر 63 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 7 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ 

ہدف کے تعاقب میں بھارتی بیٹنگ لائن جنوبی افریقا کی منظم بولنگ کے سامنے بے بس نظر آئی اور پوری ٹیم 18.5 اوورز میں صرف 111 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء میں بھارت کی یہ پہلی شکست ہے، جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس کی 12 میچوں پر مشتمل ناقابلِ شکست سیریز بھی ختم ہو گئی۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سابق کرکٹرز اور شائقین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے جنوبی افریقا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے بھارت کے لیے زوردار دھچکا قرار دیا اور کہا کہ پروٹیز نے بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں شاندار کھیل پیش کیا۔

جنوبی افریقا کے سابق کپتان گریم اسمتھ اور ہرشل گبز نے بھی قومی ٹیم کی تاریخی فتح پر مبارکباد دیتے ہوئے دباؤ میں بہترین بیٹنگ اور مؤثر قیادت کو سراہا۔

دوسری جانب سابق بھارتی کرکٹرز محمد کیف، عرفان پٹھان اور سنجے منجریکر نے بھارتی ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

عرفان پٹھان کا کہنا ہے کہ بھارتی بیٹنگ کی کمزوریاں پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں رہی ہیں، محمد کیف نے بھارتی بولنگ اٹیک میں 2 کمزور کڑیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ حریف ٹیمیں ان بولرز کے خلاف کھل کر کھیل سکتی ہیں۔

بھارت کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی براڈکاسٹر کے ایک متنازع اشتہار پر بھی تنقید کی گئی، جس میں جنوبی افریقا کو چوکرز کہا گیا تھا۔

 صارفین نے اس اشتہار کو غیر ضروری اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے براڈکاسٹرز سے آئندہ محتاط رہنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا ہے کہ سنڈے کیسا رہا، بھائی؟ جو میچ کے بعد وائرل ہونے والے جملوں میں شامل رہا۔

جواب دیں

Back to top button