اگر صدر مادورو واقعی اقتدار سے ہٹا دیے گئے ہیں تو اب آگے کیا ہو گا؟

سنہ 1989 میں پاناما پر حملہ کرنے اور اس کے فوجی رہنما مانوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے امریکہ نے لاطینی خطے میں اس طرح کی براہِ راست مداخلت نہیں کی ہے جیسی اب وینزویلا میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔
اگر صدر مادورو کو زبردستی وینزویلا میں اقتدار سے بیدخل کر دیا گیا ہے، جیسا کہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں، تو یہ امریکی انتظامیہ کے اُن سخت گیر حلقوں کے لیے بڑی کامیابی سمجھی جائے گی جو کھلے عام وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
امریکہ نے صدر مادورو پر ایک منشیات سمگلنگ تنظیم کی قیادت کرنے کا الزام لگایا ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔
امریکہ انھیں سنہ 2024 کے انتخابات کے بعد وینزویلا کا جائز صدر بھی تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ ان انتخابات کو بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب وینزویلا نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اس کے قیمتی تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، جو دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر سمجھے جاتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر صدر مادورو واقعی اقتدار سے ہٹ گئے ہیں تو وینزویلا میں اب کیا ہو گا۔
امریکی مداخلت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے وینزویلا کی اپوزیشن کو اقتدار سنبھالنے کا موقع ملے گا، جس کی قیادت نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو اور سنہ 2024 کے اپوزیشن امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کر سکتے ہیں۔
تاہم دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ وینزویلا کی فوج اور نیم فوجی دستے مادورو کے وفادار رہے ہیں، اور حتیٰ کہ صدر مادورو کے بعض ناقدین کو بھی خدشہ تھا کہ براہِ راست امریکی مداخلت ملک میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
یقیناً مادورو کے دیگر قریبی اتحادی بھی ان کی گرفتاری کی خبر کے بعد اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں گے۔







