لیبیا کے آرمی چیف محمد علی الحداد دیگر جرنیلوں سمیت فضائی حادثے میں ہلاک

ترکی میں فضائی حادثے کے دوران لیبیا کے فوجی سربراہ جنرل محمد علی احمد الحداد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ایک فالکن 50 طیارے میں چار دیگر افراد کے ساتھ سوار تھے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ سے روانہ ہوا تھا۔
ترکی کے وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ طیارے کا رابطہ مقامی وقت کے مطابق رات 20:52 پر منقطع ہو گیا، یعنی انقرہ سے پرواز کے تقریباً 42 منٹ بعد۔ طرابلس جانے والے اس طیارے نے رابطہ منقطع ہونے سے پہلے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست بھی کی تھی۔
یہ حادثہ لیبیا کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ جنرل محمد علی احمد الحداد ملک کی فوجی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔’
لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل محمد علی احمد الحداد اپنے وفد کے چار ارکان اور عملے کے تین ارکان کے ساتھ اس حادثے کے وقت جہاز میں سوار تھے۔
لیبیا کے چیف آف سٹاف محمد علی احمد الحداد کے ہمراہ لیبیا کی لینڈ فورسز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل محمود الکتاوی، لیبیا کے چیف آف جنرل سٹاف کے مشیر محمد العسوی دیاب اور جنرل سٹاف کے فوٹوگرافر محمد عمر احمد محکب جہاز میں موجود تھے۔
امریکی ٹیلیویژن نیٹ ورک این بی سی نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے عملے کے ارکان لیبیا کے نہیں تھے۔ تاہم ان تینوں افراد کی شناخت اور قومیت سے متعلق تاحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ لیبیا میں 24 اور 25 دسمبر کو یوم آزادی کی تقریبات کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم اس حادثے کے بعد وزیر اعظم دیبے نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین دن تک تمام ریاستی اداروں پر پرچم سرنگوں رہیں گے جبکہ تمام سرکاری اور جشن کی تقریبات معطل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔







