
قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 13 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، اور ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہا۔
زیادہ تر نشستیں اس وقت خالی ہوئی تھیں، جب پی ٹی آئی کے وہ اراکین نااہل قرار پائے تھے جنہیں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر سزائیں سنائی گئی تھیں۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 ہری پور، این اے 96 فیصل آباد، این اے 104 فیصل آباد، این اے 129 لاہور، این اے 143 ساہیوال اور این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں پولنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 79 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 98 فیصل آباد، پی پی 115 فیصل آباد، پی پی 116 فیصل آباد، پی پی 203 ساہیوال اور پی پی 269 مظفر گڑھ کی نشستوں پر بھی اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے عوام نے ووٹ ڈالا۔
قومی اسمبلی
ضمنی انتخابات قومی اسمبلی کی 6 نشستوں پر ہو رہے ہیں، جن میں سے این اے 18 ہری پور کی نشست پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تھی، اب ان کی اہلیہ، شہر ناز عمر ایوب پہلی بار الیکشن لڑ رہی ہیں اور ان کا مقابلہ بابر نواز سے ہے۔
این اے 96 میں مسلم لیگ (ن) نے محمد بلال بدر چوہدری کو ٹکٹ دیا ہے، جو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے بھائی ہیں۔
این اے 104 میں مسلم لیگ (ن) نے دانیال احمد کو نامزد کیا ہے، جن کا مقابلہ 3 آزاد امیدواروں سے ہے، دانیال احمد، سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے بیٹے ہیں، وہ پہلے بھی الیکشن لڑ چکے ہیں مگر صاحبزادہ حامد رضا سے شکست کھا گئے تھے، جنہوں نے ایک لاکھ 32 ہزار 655 ووٹ حاصل کیے تھے۔
این اے 129 کی نشست سابق گورنر پنجاب اور پی ٹی آئی کے رہنما میاں محمد اظہر کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، اب ان کے نواسے چوہدری ارسلان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) نے حافظ میاں محمد نعمان کو میدان میں اتارا ہے۔
این اے 143 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد طفیل جٹ کا مقابلہ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری سے ہے۔
این اے 185 میں پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ اور مسلم لیگ (ن) کے محمود قادر خان لغاری اہم امیدواروں میں شامل ہیں۔
پنجاب اسمبلی
پنجاب میں 7 نشستوں پر مقابلہ ہو رہا ہے، پی پی 73 میں میں مسلم لیگ (ن) نے میاں سلطان علی رانجھا کو ٹکٹ دیا ہے۔
پی پی 88 میں پارٹی نے آزاد علی تبسم کو نامزد کیا ہے، جو 9 آزاد امیدواروں کے خلاف میدان میں ہیں، 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا اس حلقے میں کوئی امیدوار نہیں تھا اور ن لیگ نے استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار محمد اجمل کی حمایت کی تھی، جو پی ٹی آئی کے جنید افضل ساہی کے مقابلے میں رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 115 میں حکمران جماعت کے امیدوار محمد طاہر پرویز 3 آزاد امیدواروں اور ایک عوامی جسٹس پارٹی پاکستان (اے جے پی پی) کے امیدوار کے مقابلے میں ہیں، طاہر پرویز 2024 کے انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے شاہد جاوید کے بعد رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 116 میں مسلم لیگ (ن) نے احمد شہریار کو ٹکٹ دیا ہے، جو سینیٹر رانا ثنا اللہ کے داماد ہیں، ان کا مقابلہ 5 آزاد امیدواروں اور ایک پاکستان نظریاتی پارٹی (پی این پی) کے امیدوار سے ہے، 2024 کے انتخابات میں شہریار نے 52 ہزار 517 ووٹ حاصل کیے تھے اور رنر اپ رہے تھے۔
پی پی 203 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد حنیف جٹ (محمد طفیل جٹ کے بھائی) کا مقابلہ آزاد امیدوار فلک شیر ڈوگر سے ہے۔







