امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کو ’اہم نان نیٹو اتحادی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بلیک ٹائی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج رات، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے کر اپنے عسکری تعاون کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں، جو ان کے لیے بہت اہم ہے‘۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’اور میں اب پہلی مرتبہ آپ کو یہ بتا رہا ہوں، کیونکہ وہ آج کی رات کے لیے اسے تھوڑا سا راز رکھنا چاہتے تھے’، یہ وہ درجہ ہے جو اس سے پہلے صرف 19 ممالک کو دیا گیا ہے۔
پولیٹیکو کے مطابق، اس فہرست میں شامل دیگر ممالک میں اسرائیل، اردن، کویت اور قطر بھی شامل ہیں۔
اس حیثیت سے امریکا کے شریک ملک کو عسکری اور اقتصادی مراعات ملتی ہیں، مگر اس میں امریکا کی جانب سے کسی قسم کی سلامتی کی ضمانت شامل نہیں ہوتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں نے سعودی عرب کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔
اسی دوران، محمد بن سلمان نے اس سے قبل یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری کو ایک کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے، جبکہ اس سے پہلے مئی میں ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر 600 ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے کوئی تفصیلات یا ٹائم فریم نہیں بتایا۔
عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پُرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔







