واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، چیٹ بیک اپ کی حفاظت کا نیا طریقہ پیش

اسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنی چیٹ بیک اپس کے لیے ایک نیا سیکیورٹی فیچر پاس کیز متعارف کروا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق یہ فیچر صارفین کی چیٹ بیک اپس یعنی بات چیت، تصاویر اور وائس میسجز کو مزید محفوظ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو کلاؤڈ میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔
قبل ازیں صارفین کو چیٹ بیک اپ فعال کرنے کے بعد یا تو ایک پاس ورڈ بنانا پڑتا تھا یا 64 ہندسوں پر مشتمل ایک طویل اینکرپشن کی (Encryption Key) یاد رکھنی پڑتی تھی، جو اکثر مشکل ثابت ہوتی تھی۔
اب واٹس ایپ نے پاس کیز کا نیا فیچر متعارف کر کے یہ عمل آسان بنا دیا ہے، اس کے تحت صارفین اپنے بیک اپ کو محفوظ کرنے کے لیے فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا فون کے اسکرین لاک کوڈ کا استعمال کر سکتے ہیں اور اس طرح پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
واٹس ایپ کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے بیک اپ ڈیٹا کو زیادہ محفوظ بنانا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب کوئی صارف اپنا فون تبدیل کرے، کھو دے یا نئی ڈیوائس استعمال کرے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کی سالوں کی یادیں ان کی چیٹس میں موجود ہوتی ہیں، جنہیں محفوظ رکھنا نہایت اہم ہے۔
اگر صارفین اس فیچر کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو وہ واٹس ایپ ایپ میں سیٹنگز میں جاکر چیٹس کا انتخاب کریں، وہاں چیٹ بیک اپ اور آخر میں اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ بیک اپ پر جائیں، جہاں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پاس کی کا آپشن دستیاب ہے یا نہیں۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اگر صارفین نے بیک اپ کو اینکرپٹ کیا ہے اور بعد میں پاس ورڈ، اینکرپشن کی یا پاس کی بھول جائیں تو واٹس ایپ وہ ڈیٹا بحال نہیں کر سکتا، جس کے نتیجے میں ڈیٹا ہمیشہ کے لیے ضائع ہو سکتا ہے۔
یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا جو فون تبدیل کر رہے ہوں یا جن کا فون گم ہو جائے، نئے فون پر چیٹس کی بحالی اب پہلے سے زیادہ آسان اور محفوظ ہوگی۔
واٹس ایپ کے مطابق پاس کیز فیچر کو مرحلہ وار متعارف کرایا جا رہا ہے، اس لیے یہ ابھی تمام صارفین کے لیے فوری طور پر دستیاب نہیں ہوگا بلکہ وقت کے ساتھ سب کو فراہم کیا جائے گا۔







