نیرج چوپڑا میرے بیٹے کا دوست، میرا بیٹا ہے، والدہ ارشد ندیم

لاہور (علی عمران چٹھہ)پیرس اولمپکس میں جیولن تھرو ایونٹس میں گولڈ اور سلور میڈل جیتنے والے ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی ماؤں نے اپنے اتحاد اور باہمی محبت کے پیغام سے سب کے دل جیت لیے ہیں۔
جیولن تھرو میں ریکارڈ ساز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستان کے ارشد ندیم کی والدہ رضیہ پروین نے کہا ہے کہ بھارتی ایتھلیٹ نیرج چوپڑا ان کے لیے اپنے بیٹے کی طرح ہیں۔ وہ ندیم کا دوست بھی ہے اور اس کا بھائی بھی۔ جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیرج کے لیے ان کی نیک تمنائیں ہیں کہ وہ بھی اپنے کیرئیر کے عروج پر پہنچ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نیرج نے گولڈ میڈل جیت لیا ہوتا تو ہم ان کی جیت کا جشن اسی طرح مناتے جس طرح آج ارشد کی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔
رضیہ کے پرتپاک الفاظ نے ارشد اور نیرج کے درمیان انوکھے بندھن کا اظہار کیا۔ ان کے تعلقات کو دونوں ممالک کی سیاسی اور سرحدی دشمنی سے بالاتر دوستی اور بھائی چارے کے طور پر بیان کیا گیا۔ ارشد کے والد محمد اشرف، جو ایک مستری کے طور پر کام کرتے تھے، نے دو بیٹیوں سمیت آٹھ بچوں کی پرورش کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا کیا۔ اپنے مشکل وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل وقت آتے اور جاتے ہیں۔ دوسری جانب نیرج کی والدہ سروج چوپڑا نے کہا کہ ارشد ان کے لیے ان کے بیٹے کی طرح ہے اور وہ بھی اسے گولڈ میڈل جیتتے ہوئے بہت خوش ہیں۔







