ایل ڈی اے اور پولیس سے برطرف ملازمین کی غیر قانونی سرگرمیوں کا ایک نیا اسکینڈل

لاہور ( سٹی رپورٹر ) ایل ڈی اے (لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی) اور پولیس سے برطرف ملازمین کی غیر قانونی سرگرمیوں کا ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ ان برطرف ملازمین نے ذاتی عدالتیں لگا کر جعلی سمن اور چالان کے ذریعے عوام سے بھاری رقوم وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ایل ڈی اے کے سرکاری خزانے کو بھی شدید نقصان ہو رہا ہے۔
ایل ڈی اے اور پولیس سے برطرف کیے گئے ملازمین کی ایک ٹیم جس میں نوید چودھری، خرم چودھری، سجاد، عارف، مقبول، طارق، سہیل، فیصل، خالد سندھو، رانا ندیم، ندیم، مجید، آصف کالیا، ملک امتیاز اور ان کے سہولت کار شامل ہیں، نے لاہور شہر میں ایک منظم گروہ بنا لیا ہے۔ یہ گروہ جعلی مجسٹریٹ، سمن، اور چالان کے ذریعے مختلف کاروباری اداروں سے پیسے وصول کرتا ہے۔جعلی عدالتیں اور سمن
یہ گروہ جعلی عدالتیں لگا کر، بنکوں، اسکولوں، میڈیکل سٹورز، کالجوں، پرائیویٹ ہسپتالوں اور ریسٹورنٹس سے رقوم اکٹھا کرتا ہے۔ جعلی مجسٹریٹ اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے یہ گروہ شہریوں کو جعلی سمن اور چالان بھیج کر انہیں دھوکہ دیتا ہے۔ ان میں سے کئی اہلکاروں کے سہولت کار جیسے کہ سبطین سیکورٹی انسپکٹر، مقبول احمد نائب کورٹ، عبدالرزاق نائب کورٹ، احسن جبار، اور سابق ریڈر اشفاق بھٹی، بھی شامل ہیں۔اربوں روپے کی ریکوری
ان برطرف اہلکاروں نے ایل ڈی اے کے نام پر اربوں روپے کی ریکوری کی ہے۔ وہ مختلف کاروباری اداروں کو جعلی نوٹس جاری کرکے ان سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ یہ جعلی اہلکار ٹاون ہال کی عدالتوں میں تعینات مجسٹریٹ کے عملے کی ملی بھگت سے یہ غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سی بی اے یونین کی شمولیت
ایل ڈی اے کی سی بی اے یونین بھی اس عمل میں ملوث ہے۔ ملک امتیاز نامی ایک پرائیویٹ شخص کی سرپرستی سی بی اے یونین کر رہی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یونین بھی ان غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ایل ڈی اے کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سرکاری خزانے کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
ویڈیوز کی وائرل ہونے والی حقیقت
اس اسکینڈل کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان ویڈیوز میں ان جعلی اہلکاروں کی غیر قانونی سرگرمیوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام نے ڈی جی ایل ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے ابھی تک ایل ڈی اے کے نام پر جعلسازی کی دکانداری چمکاٸی جارہی ہے






