متروکہ بورڈ کی 15 مرلہ اراضی پر خلاف قوانین کمرشل تعمیر

لاہور (عامر بٹ)محکمہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے فیلڈ سٹاف نے چیئرمین اور دیگر اعلیٰ حکام کی بارہا تنبیہ اور ضابطہ کی کارروائیوں کے باوجود بدعنوانی اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی نہ چھوڑی۔
حالیہ دنوں میں نئے چیئرمین اور سیکرٹری کی قبضہ گروپوں اور بدعنوانی کیخلاف جاری مہم کے باوجود ڈیپارٹمنٹ کی 15مرلہ اراضی ،جس کی مالیت کروڑوں روپے ہے، پر خلاف لیز قوانین کمرشل تعمیرات شروع کروادی ہیں۔ یہ لیز شدہ زمین تاج کمپنی روڈ اردو بازار میں واقع ہے، جہاں پر غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر ہو چکی ہیں اور ایک بڑے حصے میں بلند و بالا کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر کا کام دھڑلے سے دن رات جاری ہے۔

اس غیر قانونی تعمیرمیں معلوم ہوا ہے جہاں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران نے ’’فیس‘‘ وصول کی ہے، وہیں ایم سی ایل کے شعبہ پلاننگ داتا گنج بخش ٹاؤن کے متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر اور محکمہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے ملازم علی عرف بلا نے بھی اپنا حصہ وصول کیا ہے اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے اعلیٰ افسران کو اِس غیر قانونی تعمیر سے بے خبر رکھا ہوا ہے۔
اس سلسلے میں جب متروکہ وقف املاک بورڈ کی اس اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کرنے والے دکاندار جمیل سے اس بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ صرف ٹھیکیدار ہیں انکو اس کے متعلق صرف اتنا ہی معلوم ہے کہ سب کچھ متروکہ وقف املاک بورڈ کی مرضی سے ہورہا ہے ۔
سماجی حلقوں نے حکومت پاکستان سے اس غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس جگہ کو عوامی فلاح و بہبود کے لئے وقف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور قبضہ گروپ سمیت سرکاری عملہ کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔








